مسلسل اپ ڈیٹس

سپریم کورٹ نے ریسیور کی تقرری کے معیارات واضح کیے

سپریم کورٹ نے متنازع جائیداد کے تحفظ کے لیے ریسیور کی تقرری کو سخت اور غیر معمولی عدالتی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لیے جائیداد کو فوری نقصان، تباہی یا غیر قانونی منتقلی کے حقیقی خطرے کا مضبوط ثبوت درکار ہوتا ہے۔ دو رکنی بینچ (جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عرفان سعادت خان) نے یہ ریمارکس حیدرآباد کے کوہ نور پٹرول پمپ کی ڈیلرشپ اور وراثتی حصص کے تنازع میں سُنائی گئی سماعت کے دوران دیے؛ فیصلے میں عارضی حکم امتناع اور ریسیور کی تقرری کے قانونی تقاضوں کو الگ الگ قرار دیا گیا اور نوٹ کیا گیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ضابطہ دیوانی کی دفعہ 115 کے تحت نظرثانی کے دائرے سے باہر جا کر ریسیور مقرر کیا۔ عدالتی نوٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ اصل وراثتی تنازعہ ٹرائل کورٹ میں زیرِ سماعت ہے اور عبوری مرحلے پر حصص کا حتمی تعین مناسب نہیں۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے