اسلام آباد: سپریم کورٹ نے متنازع جائیداد کے تحفظ کے لیے ریسیور کی تقرری سے متعلق اہم قانونی اصول واضح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یہ ایک سخت اور غیر معمولی عدالتی اقدام ہے، جسے محض کسی فریق کی درخواست پر اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق ریسیور مقرر کرنے سے پہلے یہ ثابت ہونا ضروری ہے کہ متعلقہ جائیداد کو فوری طور پر نقصان، تباہی یا غیر قانونی منتقلی کا حقیقی خطرہ لاحق ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے حیدرآباد کے کوہ نور پٹرول پمپ کی ڈیلرشپ اور وراثتی حصص سے متعلق تنازع کی سماعت کے دوران یہ اصول طے کیے۔ فیصلے میں عارضی حکم امتناع اور ریسیور کی تقرری کے قانونی تقاضوں کو الگ الگ قرار دیا گیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ عارضی حکم امتناع کے لیے بادی النظر میں مقدمہ، سہولت کا توازن اور ناقابل تلافی نقصان کا امکان دکھانا ضروری ہوتا ہے، لیکن ریسیور مقرر کرنے کے لیے اس سے زیادہ مضبوط قانونی بنیاد اور فوری عدالتی مداخلت کی ناگزیر ضرورت درکار ہوتی ہے۔ مقدمے میں درخواست گزاروں نے اپنے حقوق کے اعلان اور مستقل حکم امتناع کے لیے سول عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے 30 مئی 2025 کو عارضی حکم امتناع کی درخواست مسترد کی، جبکہ اپیلٹ کورٹ نے 5 اگست 2025 کو پٹرول پمپ کی سیل کھولنے اور چھ ماہ یا مقدمے کے حتمی فیصلے تک ڈیلرشپ میں مداخلت روکنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے 20 اکتوبر 2025 کو اپیلٹ کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے ناظر کو کوہ نور پیٹرولیم سروس کا ریسیور مقرر کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ ہائی کورٹ کے سامنے بنیادی سوال عارضی حکم امتناع سے متعلق ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی درستگی تھا، مگر ہائی کورٹ نے اس دائرے سے آگے بڑھ کر ریسیور مقرر کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ ضابطہ دیوانی کی دفعہ 115 کے تحت نظرثانی اختیار کا مقصد ماتحت عدالت کی قانونی یا دائرہ اختیار کی غلطی درست کرنا ہے، نہ کہ مقدمہ ازسرنو سننا یا درخواست سے باہر ریلیف دینا۔

جسٹس محمد علی مظہر کے تحریر کردہ فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ وراثتی حصص کا اصل تنازع متعلقہ ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت ہے اور عبوری مرحلے پر ان حصص کا حتمی تعین مناسب نہیں۔ عدالت نے اصول طے کیا کہ ریسیور صرف اسی وقت مقرر ہونا چاہیے جب متنازع جائیداد کے تحفظ کے لیے ایسی مداخلت ناگزیر ہو۔