مسلسل اپ ڈیٹس

سپریم کورٹ کی رجسٹرڈ فروخت نامے کی حیثیت پر تشریح

سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ دیا ہے کہ رجسٹرڈ سیل ڈیڈ/فروخت نامہ صرف اس بنیاد پر خودبخود کالعدم نہیں ہوتا کہ اس پر خریدار کے دستخط یا انگوٹھے کا نشان موجود نہیں؛ رجسٹرڈ دستاویز کی ابتدائی قانونی صداقت برقرار رہتی ہے اور اسے چیلنج کرنے والا فریق مبہم فراڈ کے بجائے واضح تفصیلات اور قابلِ اعتماد شواہد سے یہ ثابت کرے کہ مبینہ فراڈ کس نے، کب اور کیسے کیا۔ دو رکنی بینچ (جسٹس شاہد وحید اور جسٹس عائشہ اے ملک) نے نسرین زہرا کی 10 مئی 1976 کی رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے خلاف اپیلیں نمٹائیں، لاہور ہائیکورٹ اور اپیلیٹ عدالت کے سابقہ فیصلے کالعدم کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کیا اور 64 کنال ایک مرلے زرعی زمین سے متعلق دعوے منظور کیے۔ عدالت نے پردہ نشین خاتون کے قانونی تحفظ اور سیل ایگریمنٹ بمقابلہ رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے قانونی فرق پر بھی وضاحت کی۔

2 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

سپریم کورٹ کی رجسٹرڈ فروخت نامے کی حیثیت پر تشریح | اردو ہیڈ لائنز