
سوات میں ’گھوسٹ‘ ملازمین کے خلاف کریک ڈاؤن، 13 برطرف اور تحقیقات کا حکم
مالاکنڈ ڈویژن انتظامیہ نے غیر حاضر ملازمین، سرکاری املاک پر غیر مجاز قبضوں اور سیاسی اثرورسوخ سے تعیناتیوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی۔
22 اکتوبر، 2026مالاکنڈ ڈویژن انتظامیہ نے سوات میں طویل عرصے سے غیر حاضر سرکاری ملازمین، سرکاری املاک کے مبینہ غیر مجاز استعمال اور سیاسی اثرورسوخ سے تعیناتیوں کے خلاف ایک مہم شروع کی۔ مہم کے بعد 400 سے زائد ملازمین نے اپنی حاضری درج کرائی۔ واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنی سوات نے ڈیوٹی پر غیر حاضر 13 ملازمین کو برطرف کیا؛ رپورٹوں کے مطابق بعض کے بارے میں دعویٰ تھا کہ وہ سیاسی سفارش پر بھرتی تھے اور دفتر کے بجائے دیگر مقامات پر خدمات انجام دیتے رہے جبکہ تنخواہیں وصول ہوتی رہیں۔ کمشنر مالاکنڈ نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو تحقیقات کا حکم دیا ہے اور انتظامیہ نے کہا ہے کہ اگر ادائیگیاں یا دیگر ضابطہ جاتی خلاف ورزیاں ثابت ہوئیں تو رقم وصول کی جائے گی۔ اسی کارروائی کے دوران ایک سرکاری بنگلہ، جس پر مبینہ طور پر سابق وفاقی وزیر مراد سعید کے بھائی کلیم سعید طویل عرصے سے قابض تھے، واپس لیا گیا اور 22 پٹواریوں کے تبادلے بھی کیے گئے؛ یہ دعوے اور انتظامی فیصلے متعلقہ انکوائریوں اور قانونی عمل کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔