سوات: مالاکنڈ ڈویژن کی انتظامیہ نے سوات میں طویل عرصے سے غیر حاضر سرکاری ملازمین، سرکاری املاک کے مبینہ غیر مجاز استعمال اور سیاسی اثرورسوخ سے ہونے والی تعیناتیوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق اس مہم کے آغاز کے بعد 400 سے زیادہ ملازمین نے، جو مبینہ طور پر برسوں سے دفاتر میں باقاعدہ حاضری نہیں دے رہے تھے، اپنی حاضری درج کرائی۔
واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنی سوات نے ڈیوٹی پر حاضر نہ ہونے والے 13 ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان ملازمین میں سے بعض گزشتہ برسوں کے دوران سیاسی شخصیات کی سفارش پر بھرتی ہوئے تھے اور الزام ہے کہ وہ سرکاری دفتر میں کام کرنے کے بجائے گھروں یا سیاسی شخصیات کے حجروں میں خدمات انجام دیتے رہے، جبکہ تنخواہیں سرکاری خزانے سے وصول ہوتی رہیں۔ یہ الزامات انتظامی تحقیقات کے دائرے میں ہیں اور ہر فرد کی ذمہ داری الگ طور پر طے ہونا باقی ہے۔
کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اقبال حسین نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اگر تحقیقات میں کسی ملازم کے خلاف سرکاری رقم کے غلط حصول یا دوسرے ضابطہ جاتی خلاف ورزی کے شواہد ثابت ہوئے تو ادا کی گئی رقم کی وصولی کے لیے بھی کارروائی کی جائے گی۔
اسی مہم کے دوران انتظامیہ نے تحصیل میونسپل انتظامیہ کے احاطے میں واقع ایک سرکاری بنگلہ بھی واپس لے لیا جس پر سابق وفاقی وزیر مراد سعید کے بھائی کلیم سعید کے کئی سال سے قابض ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق متعلقہ شخص کو جگہ خالی کرنے کے لیے پہلے بھی کہا گیا تھا اور بعد میں قانونی کارروائی کے ذریعے سرکاری عمارت کا قبضہ حاصل کیا گیا۔ اس معاملے میں رپورٹ شدہ دعوؤں کو انتظامیہ کی کارروائی کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔
مزید برآں سوات کے ڈپٹی کمشنر نے 22 پٹواریوں کے تبادلے کیے ہیں جن کی تعیناتیوں کے بارے میں سیاسی اثرورسوخ کے الزامات سامنے آئے تھے۔ انتظامیہ کی موجودہ مہم بیک وقت حاضری، سرکاری اثاثوں اور تقرری و تبادلے کے معاملات کو دیکھ رہی ہے۔
کارروائی کا اگلا مرحلہ تحقیقات کے نتائج پر منحصر ہوگا۔ کسی ملازم یا دوسرے فرد کے خلاف مالی یا انتظامی بے ضابطگی کا حتمی تعین متعلقہ انکوائری اور قانونی عمل کے بعد ہی ہوگا۔
