پشاور: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کا بنیادی مقصد خیبرپختونخوا کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا جائزہ لینا تھا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق اجلاس میں اعلیٰ فوجی قیادت اور وفاقی وزرا سمیت متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
وزیراعظم کا یہ دورہ خیبرپختونخوا میں 11 اکتوبر کو ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیے جانے کے بعد صوبے کا پہلا دورہ ہے۔ وفاقی حکومت نے ان اقدامات کے لیے سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کی صورتحال کو بنیاد بنایا تھا، جبکہ حزب اختلاف نے ان فیصلوں پر سیاسی اور آئینی اعتراضات اٹھائے۔ پارلیمان نے گزشتہ ہفتے حکومتی اقدامات کی توثیق کی تھی، تاہم ان سے متعلق عدالتی درخواستیں بھی سامنے آئی ہیں۔
ایپکس کمیٹی کے اجلاس کا انعقاد ایسے وقت ہوا ہے جب صوبے کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی، اغوا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درپیش خطرات مسلسل قومی توجہ کا مرکز ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں شوگر مل ملازمین کے اغوا سمیت حالیہ واقعات نے جنوبی اضلاع میں سکیورٹی چیلنجز کو دوبارہ نمایاں کیا ہے۔
وفاقی حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے محکموں کے درمیان قریبی رابطہ ضروری ہے۔ ایپکس کمیٹی جیسے فورمز پر عام طور پر انٹیلی جنس، آپریشنل صورتحال، انتظامی ضروریات اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
موجودہ اجلاس کے بارے میں ابتدائی سرکاری اطلاع میں تفصیلی فیصلوں یا نئے آپریشنل اقدامات کی مکمل فہرست جاری نہیں کی گئی تھی۔ اس لیے اجلاس کے نتیجے میں کسی مخصوص نئی پالیسی، آپریشن یا قانونی اقدام کو اس وقت تک حتمی نہیں سمجھا جا سکتا جب تک حکومت باضابطہ اعلامیہ یا تفصیلی فیصلے جاری نہ کرے۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا معاملہ سیاسی طور پر بھی حساس ہے۔ حکومتی مؤقف اور حزب اختلاف کے اعتراضات کے درمیان سکیورٹی پالیسی کے عملی نتائج، صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی اور عدالتی جائزہ آئندہ دنوں میں اہم رہیں گے۔
ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اس میں صوبے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کو اعلیٰ ترین وفاقی سطح پر زیر بحث لایا گیا۔ آئندہ اقدامات کی درست نوعیت حکومت کی جانب سے جاری ہونے والی تفصیلی معلومات سے واضح ہوگی۔
