پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے 15 اکتوبر کو نجی اسکول کی عمارت گرنے کے سانحے سے متعلق دو درخواستوں پر خیبرپختونخوا حکومت اور متعلقہ سرکاری حکام سے جواب طلب کر لیا ہے۔ درخواست گزار شفاف تحقیقات، جاں بحق افراد کے خاندانوں کے لیے شہدا پیکیج کے مساوی معاوضے اور صوبے بھر کے اسکولوں کی عمارتوں کے حفاظتی آڈٹ کی استدعا کر رہے ہیں۔

جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بینچ نے چیف سیکریٹری اور متعدد انتظامی سیکریٹریوں سمیت فریقین کو ہدایت کی کہ وہ دو ہفتوں کے اندر درخواستوں پر اپنے تحریری مؤقف جمع کرائیں۔ یہ درخواستیں پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور وکیل عثمان عالم کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ اسکول کی عمارت کی حفاظت یقینی بنانے اور طلبہ کی جانوں کے تحفظ میں مبینہ ناکامی آئینی حقوق سے متعلق سوالات اٹھاتی ہے۔ انہوں نے ہر جاں بحق طالب علم کے قانونی ورثا کو شہدا پیکیج کے مساوی مالی فوائد، زخمی طلبہ کے مفت علاج اور مناسب معاوضے کی استدعا کی ہے۔ یہ مطالبات ابھی عدالتی درخواستوں کا حصہ ہیں اور عدالت نے ان پر حتمی حکم نہیں دیا۔

درخواستوں میں ایک عدالتی کمیشن بنانے کی بھی استدعا کی گئی ہے جو عمارت گرنے کی وجوہات، متعلقہ سرکاری حکام، مالکان اور اسکول انتظامیہ کے کردار کا جائزہ لے اور ذمہ داری کا تعین کرے۔ مزید مطالبہ کیا گیا کہ صوبے کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کا ساختی، آگ سے تحفظ اور بلڈنگ قوانین کی پابندی کے حوالے سے ماہر انجینئروں اور فائر سیفٹی ماہرین کے ذریعے آڈٹ کرایا جائے۔

درخواست گزار وکلا کے مطابق رنگ روڈ کے قریب الخیر ایجوکیشن سسٹم کی عمارت 15 اکتوبر کو گری تھی، جس میں 31 طلبہ اور ایک استاد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نجی اسکولوں کی عمارتوں کی مؤثر نگرانی اور ضابطہ کاری میں خامیاں موجود تھیں۔ ان الزامات کی ذمہ داری کا حتمی تعین ابھی کسی عدالتی یا آزاد انکوائری میں نہیں ہوا۔

درخواستوں میں محفوظ اسکول پالیسی، زلزلہ مزاحم تعمیر، فائر ایگزٹ، آگ بجھانے کے آلات، انخلا کی مشقوں اور باقاعدہ تھرڈ پارٹی معائنے کے کم از کم معیارات نافذ کرنے کی استدعا بھی شامل ہے۔

عدالت کی موجودہ کارروائی جواب طلب کرنے کے مرحلے پر ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کے جوابات آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ عدالت تحقیقات، معاوضے یا صوبائی سطح کے حفاظتی اقدامات کے بارے میں کیا حتمی ہدایات جاری کرتی ہے۔