لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے متحدہ عرب امارات میں زیر حراست دو پاکستانی شہریوں سے متعلق دو الگ توہین عدالت درخواستوں پر سیکریٹری خارجہ عاصم افتخار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 29 اکتوبر تک جواب طلب کر لیا ہے۔ درخواستوں میں الزام لگایا گیا ہے کہ عدالت کے سابقہ حکم کے مطابق زیر حراست افراد سے متعلق نمائندگیوں پر مقررہ مدت میں فیصلہ نہیں کیا گیا۔
جسٹس صادق محمود خرم نے درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی نے مؤقف اختیار کیا کہ سید سلمان رضا زیدی اور محمد جنید جہانگیر کو قونصلر، سفارتی اور قانونی رسائی مؤثر طور پر فراہم نہیں کی گئی۔ یہ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے اور عدالت نے اس مرحلے پر ان الزامات پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے 14 ستمبر کو سیکریٹری خارجہ کو ہدایت کی تھی کہ دونوں شہریوں کی حراست سے متعلق پیش کی گئی نمائندگیوں کو 15 دن میں نمٹا کر فیصلہ کیا جائے۔ تازہ درخواستوں میں کہا گیا کہ کافی وقت گزرنے کے باوجود درخواست گزاروں کو کسی فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔ وکیل نے اسی بنیاد پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی استدعا کی۔
مرکزی درخواستوں کے مطابق سلمان رضا زیدی 27 ستمبر 2024 کو شارجہ میں اپنی رہائش گاہ سے لاپتا ہوئے اور بعد میں متحدہ عرب امارات کے حکام کی تحویل میں ہونے کی اطلاع سامنے آئی۔ ان کی اہلیہ کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ خاندان کو الزامات، عدالتی کارروائی، ممکنہ سزا یا مکمل عدالتی ریکارڈ کے بارے میں واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
جنید جہانگیر کے بارے میں ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ انہیں 24 ستمبر 2024 کو سعودی عرب سے واپسی پر دبئی ایئرپورٹ پر مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا۔ ان کے والد نے وفاقی حکومت اور وزارت خارجہ کی جانب سے مؤثر قونصلر تحفظ اور قانونی مدد فراہم نہ کرنے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا۔
دونوں درخواست گزاروں نے قانونی و قونصلر معاونت، عدالتی ریکارڈ کے حصول اور وطن واپسی کے لیے سفارتی سطح پر اقدامات کی استدعا کی ہے۔ موجودہ عدالتی پیش رفت صرف نوٹس کے اجرا اور جواب طلبی تک محدود ہے؛ توہین عدالت ثابت ہونے یا کسی سرکاری اہلکار کی ذمہ داری کا حتمی تعین آئندہ سماعت اور عدالتی فیصلے کے بعد ہوگا۔
