مسلسل اپ ڈیٹس

مشرقی بحیرۂ روم: ترکی‑لیبیا 2019 سمندری معاہدہ اور تنازع

یونان نے اقوامِ متحدہ میں 2019 کے ترکی‑طرابلس (لیبیا) سمندری حدود کے معاہدے کے خلاف مشترکہ بیان پیش کیا، جسے مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے بھی حمایت دی۔ چاروں ممالک نے کہا کہ یہ دوطرفہ انتظام مشرقی بحیرۂ روم میں علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے لیے سنگین خدشات پیدا کر سکتا ہے۔ ترکی اور طرابلس کی اس وقت بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے 2019 میں معاہدے پر دستخط کیے تھے اور تازہ رپورٹس کے مطابق مشرقی لیبیا کی پارلیمان نے بھی اس معاہدے کی منظوری دی ہے، جس سے برسوں پرانے تنازع میں شدت آئی ہے۔ یونان اور قبرص کہتے ہیں کہ یہ انتظام ان کے سمندری دعؤں اور خصوصی اقتصادی زونز سے متصادم ہے، جبکہ ترکی نے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی پالیسی قانونی بنیاد رکھتی ہے اور وہ اپنے اور ترک قبرصی باشندوں کے حقوق کا تحفظ کرے گا۔ معاملہ توانائی کے منصوبوں، گیس تلاش اور لیبیا کی داخلی تقسیم کے تناظر میں پیچیدہ ہے؛ مشترکہ بیان ایک سفارتی و قانونی مؤقف ہے نہ کہ کسی عدالتی فیصلے یا معاہدے کی منسوخی۔

1 خبریںآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے