ایتھنز/نیویارک: مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے ترکی اور لیبیا کے درمیان 2019 کے سمندری حدود کے معاہدے کی مخالفت میں یونان کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ یونانی وزیر خارجہ جارج گیراپیٹریٹس کی جانب سے اقوام متحدہ میں پیش کیے گئے مشترکہ بیان میں چاروں ممالک نے کہا کہ یہ معاہدہ مشرقی بحیرہ روم میں علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون کے قائم اصولوں کو متاثر کرنے والی مثال بن سکتا ہے۔

ترکی اور لیبیا کی اس وقت بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ طرابلس حکومت نے 2019 میں بحیرہ روم میں سمندری حدود کے تعین سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ گزشتہ ہفتے مشرقی لیبیا کی پارلیمان نے بھی اس معاہدے کی منظوری دے دی، جس کے بعد کئی برس سے جاری تنازع دوبارہ نمایاں ہو گیا۔ یونان اور قبرص طویل عرصے سے کہتے آئے ہیں کہ یہ انتظام ان کے اپنے سمندری دعوؤں اور خصوصی اقتصادی زون سے متعلق حقوق سے متصادم ہے۔

مشترکہ بیان میں مصر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور یونان نے خبردار کیا کہ دوطرفہ انتظامات کے ذریعے بین الاقوامی سمندری قانون کے تسلیم شدہ اصولوں کو نظر انداز کرنے سے خطے میں مزید تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب ترکی نے ان اعتراضات کو مسترد کیا ہے۔ صدر رجب طیب اردوان اور ترک حکام کا مؤقف ہے کہ انقرہ کی مشرقی بحیرہ روم سے متعلق پالیسی قانونی بنیاد رکھتی ہے اور ترکی اپنے اور ترک قبرصی باشندوں کے حقوق کا تحفظ کر رہا ہے۔

تنازع صرف جغرافیائی حدود تک محدود نہیں بلکہ توانائی کی تلاش اور مستقبل کے گیس منصوبوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یونان نے حالیہ عرصے میں کریٹ کے قریب گیس کی تلاش کے لیے شیورون کی قیادت والے کنسورشیم کو لائسنس دیا ہے، جبکہ ایتھنز لیبیا کے ساتھ الگ سمندری حد بندی معاہدے پر بھی بات چیت چاہتا ہے۔ مصر اور یونان نے 2020 میں اپنے درمیان خصوصی اقتصادی زون کے ایک حصے کی حد بندی کا معاہدہ کیا تھا اور اب اسے مزید مشرق کی جانب بڑھانے پر بھی بات ہو رہی ہے۔

لیبیا خود مشرقی اور مغربی انتظامیہ کے درمیان تقسیم کا شکار ہے، جس سے خارجہ اور سمندری پالیسی کے معاملات مزید پیچیدہ ہوتے ہیں۔ تازہ مشترکہ بیان کسی عدالتی فیصلے یا معاہدے کی منسوخی کے مترادف نہیں، بلکہ چار ممالک کا سفارتی اور قانونی مؤقف ہے۔ ترکی اور لیبیا کے متعلقہ فریق اس معاہدے کا دفاع کرتے ہیں، جبکہ مخالف ممالک اسے اپنے سمندری حقوق اور علاقائی قانونی نظم کے لیے مسئلہ قرار دیتے ہیں۔