انقرہ: ترکی کی پارلیمان کی متعلقہ کمیٹی نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاع سے متعلق مکہ معاہدے کی توثیق کی منظوری دے دی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، سعودی عرب پر حوثی حملوں اور ایران کے ساتھ علاقائی سفارتی رابطوں کے باعث تینوں ممالک کے دفاعی تعاون پر توجہ بڑھی ہوئی ہے۔
ترک نائب وزیر خارجہ نے پارلیمانی کارروائی کے دوران معاہدے کو خطے میں تعاون اور دفاعی صلاحیتوں کے انضمام کی کوشش قرار دیا اور اس تاثر کو مسترد کیا کہ اس کا مقصد کوئی نیا جغرافیائی سیاسی بلاک تشکیل دینا ہے۔ معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی مشاورت اور مشترکہ سلامتی سے متعلق تعاون کو ایک باقاعدہ فریم ورک میں آگے بڑھانے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔
ترکی میں بین الاقوامی معاہدوں کی مکمل توثیق کے لیے پارلیمانی مراحل ضروری ہوتے ہیں، اس لیے کمیٹی کی منظوری کو پورے قانون سازی کے عمل کا ایک اہم مرحلہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود کمیٹی کی منظوری اور حتمی نفاذ میں قانونی طور پر فرق برقرار رہتا ہے؛ باقی پارلیمانی یا آئینی مراحل مکمل ہونے کے بعد ہی ترکی کی جانب سے معاہدے کی مکمل توثیق کی حیثیت واضح ہوگی۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعلقات پہلے سے موجود ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب طویل عرصے سے فوجی تربیت اور دفاعی تعاون رکھتے ہیں، جبکہ ترکی اور پاکستان کے درمیان بھی دفاعی صنعت، تربیت اور فوجی روابط قائم ہیں۔ نئے معاہدے کا سیاسی وزن اس لیے زیادہ ہے کہ یہ تینوں ریاستوں کو ایک مشترکہ علاقائی سلامتی فریم ورک میں قریب لاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام نے تہران میں ایرانی حکام سے بھی رابطے کیے ہیں تاکہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کم کرنے کے امکانات تلاش کیے جا سکیں۔ اس تناظر میں ترک حکام کی جانب سے معاہدے کو کسی ملک کے خلاف بلاک کے بجائے دفاعی انضمام کے طور پر پیش کرنا اہم ہے۔ تاہم معاہدے کے عملی اثرات کا انحصار اس کی حتمی توثیق، مشترکہ طریقہ کار اور خطے کی بدلتی سلامتی صورتحال پر ہوگا۔
