بیجنگ: چین کی ایک عدالت نے چائنا سیکیورٹیز ریگولیٹری کمیشن کے سابق انسداد بدعنوانی عہدیدار وانگ ہوئمن کو رشوت ستانی کے مقدمے میں دو سال کی مہلت کے ساتھ سزائے موت سنائی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے حوالے سے رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ عدالت نے وانگ کو 436 ملین یوآن، یعنی تقریباً 65 ملین ڈالر، سے زیادہ مالیت کی غیر قانونی رقوم قبول کرنے کا مجرم قرار دیا۔

عدالت کے پہلے درجے کے فیصلے کے مطابق وانگ نے 1998 سے 2025 کے دوران سنکیانگ اور قومی سیکیورٹیز ریگولیٹر میں مختلف سرکاری عہدوں پر رہتے ہوئے کمپنیوں اور افراد سے فائدے حاصل کیے۔ عدالتی مؤقف کے مطابق ان فوائد کے بدلے کاروباری سرگرمیوں اور فنڈ ریزنگ سمیت مختلف معاملات میں سہولت فراہم کی گئی۔ عدالت نے رشوت کی مقدار کو غیر معمولی طور پر بڑا اور اس کے نتائج کو سنگین قرار دیا۔

تاہم عدالت نے فوری سزائے موت کے بجائے دو سال کی مہلت دی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ بعض جرائم کوشش کی حد تک رہے، وانگ نے تفتیشی اداروں کو ایسے حقائق بھی بتائے جو پہلے معلوم نہیں تھے اور غیر قانونی آمدن کا کچھ حصہ واپس حاصل کر لیا گیا۔ شنہوا کے مطابق وانگ نے عدالت میں جرم تسلیم کیا اور ندامت کا اظہار کیا۔ عدالت نے ان کے سیاسی حقوق عمر بھر کے لیے ختم کرنے اور تمام ذاتی املاک ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔

چینی قانون میں دو سال کی مہلت کے ساتھ سزائے موت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سزا پر فوری عمل درآمد نہیں کیا جاتا اور مقررہ مدت کے بعد اسے عموماً عمر قید میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ متعلقہ قانونی شرائط پوری ہوں۔ اس مقدمے میں عدالت نے کہا کہ وانگ باقی زندگی جیل میں گزاریں گے اور سزا میں مزید کمی یا پیرول کی گنجائش نہیں ہوگی۔

یہ فیصلہ چین میں مالیاتی شعبے اور سرکاری اداروں میں جاری انسداد بدعنوانی مہم کے پس منظر میں آیا ہے۔ صدر شی جن پنگ کے دور میں حکام نے سرکاری محکموں، ریاستی اداروں اور مالیاتی نظام میں بدعنوانی کے خلاف وسیع کارروائیاں کی ہیں۔ وانگ کے خلاف فیصلہ عدالت کا باقاعدہ عدالتی حکم ہے؛ اس لیے اسے محض الزام یا زیر تفتیش دعویٰ نہیں بلکہ پہلے درجے کی عدالت کا ثابت شدہ فیصلہ سمجھا جائے گا، اگرچہ چینی قانونی نظام میں دستیاب اپیل یا دیگر قانونی مراحل الگ معاملہ ہیں۔