جنیوا: اقوام متحدہ کے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل نے اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد بھی غزہ میں ایسی کارروائیاں جاری رکھیں جنہیں کمیشن نے نسل کشی کے قانونی معیار سے جوڑا ہے۔ یہ کمیشن کی تحقیق اور قانونی تشخیص ہے، کسی بین الاقوامی عدالت کا حتمی فیصلہ نہیں، جبکہ اسرائیلی حکومت نسل کشی کے الزامات کو مسلسل مسترد کرتی آئی ہے۔

رپورٹ میں جنگ بندی کے بعد ہونے والی ہلاکتوں، بنیادی ڈھانچے کو نقصان، انسانی امداد تک رسائی اور فلسطینی آبادی کے حالات کا جائزہ لیا گیا۔ کمیشن نے بین الاقوامی انسانی قانون اور 1948 کے نسل کشی کنونشن کے تناظر میں واقعات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب شواہد اس کے پہلے کے نتائج کو تبدیل نہیں کرتے۔ تحقیقاتی ادارے نے اسرائیلی حکام سے شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

نسل کشی ایک مخصوص بین الاقوامی قانونی اصطلاح ہے اور اس کے تعین کے لیے محفوظ گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کی مخصوص نیت سمیت قانونی عناصر کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے کمیشن کی رپورٹ میں استعمال ہونے والی اصطلاح کو الزام، تحقیقاتی نتیجے اور عدالتی فیصلے کے درمیان فرق کے ساتھ رپورٹ کرنا ضروری ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف میں غزہ سے متعلق الگ مقدمہ بھی زیر سماعت رہا ہے، لیکن اس کارروائی کے عبوری احکامات اور کسی حتمی فیصلے کو ایک ہی چیز نہیں سمجھا جا سکتا۔

اسرائیل کا مؤقف رہا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں اور وہ جان بوجھ کر فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانے یا نسل کشی کی پالیسی اپنانے کی تردید کرتا ہے۔ اسرائیلی حکام اقوام متحدہ کے بعض تحقیقاتی اداروں پر جانبداری کے الزامات بھی لگاتے رہے ہیں۔ دوسری طرف فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں، نقل مکانی، خوراک و ادویات کی کمی اور شہری تنصیبات کی تباہی کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کے طور پر پیش کرتی ہیں۔

نئی رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب جنگ بندی کے باوجود غزہ کی انسانی صورتحال اور اس کے نفاذ پر بین الاقوامی نگرانی جاری ہے۔ کمیشن کی سفارشات خودکار طور پر فوجداری سزا یا عدالتی حکم نہیں بنتیں، لیکن یہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک، بین الاقوامی عدالتوں اور انسانی حقوق کے اداروں کے لیے شواہد اور قانونی تجزیے کا حصہ بن سکتی ہیں۔