دبئی/تہران: ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کی درخواستیں منظم کرنے کے لیے قائم پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی کوریا کی شپنگ کمپنی سینوکور سے تعلق رکھنے والے تمام جہاز یکم نومبر سے قانونی کارروائی کا سامنا کریں گے۔ اتھارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران سینوکور کے جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کرنے سے متعلق ایرانی قواعد کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں کیں۔

رائٹرز کے مطابق ایرانی اتھارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کم از کم سات سینوکور جہازوں کے خلاف پہلے ہی مناسب اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ ادارے نے یہ واضح نہیں کیا کہ یکم نومبر سے قانونی کارروائی کی نوعیت کیا ہوگی، آیا اس میں جہاز روکنا، جرمانہ عائد کرنا یا کسی اور قسم کی پابندی شامل ہوگی۔ سینوکور کی جانب سے رپورٹ کی اشاعت تک فوری ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔

ایران نے اگست میں 45 ٹینکروں کی ایک فہرست جاری کی تھی جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے مقرر کردہ اس کے قواعد کی خلاف ورزی کی۔ سینوکور کی ملکیت والے جہاز بھی اس فہرست میں شامل تھے۔ تہران نے امریکا اور اسرائیل کے فروری کے فضائی حملوں کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول سخت کرنے کی کوشش کی ہے اور گزرنے کی اجازت کے نظام کو علاقائی تنازع میں دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ خلیجی ممالک سے نکلنے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار اسی تنگ سمندری راستے سے ایشیا اور دیگر عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ جہاز رانی میں رکاوٹ یا خطرے میں اضافہ انشورنس، مال برداری اور توانائی کی قیمتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایران کے اقدامات نے بالخصوص ایشیائی خریداروں اور خلیجی تیل برآمد کرنے والے ممالک کے لیے تجارتی خطرات بڑھائے ہیں۔

تہران کا مؤقف ہے کہ اس کے نئے انتظامات آبنائے میں جہاز رانی کے ضوابط اور سکیورٹی نافذ کرنے کے لیے ہیں، جبکہ مخالف حکومتیں اور شپنگ حلقے ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر دباؤ اور حملوں پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔ سینوکور کے خلاف تازہ اعلان ایرانی اتھارٹی کا بیان اور الزام ہے؛ کمپنی کی جانب سے ان مخصوص خلاف ورزیوں کی آزادانہ تصدیق یا جواب رپورٹ میں موجود نہیں، اس لیے الزامات کو حتمی عدالتی نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔