مسلسل اپ ڈیٹس

اقوامِ متحدہ کا موسمیاتی جائزہ: 2100 تک ممکنہ عالمی حدت

اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی تازہ رپورٹ کے مطابق موجودہ قومی اخراج وعدوں پر مکمل عمل کرنے کی صورت میں صدی کے اختتام تک اوسط عالمی درجۂ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ سکتا ہے، اور اگر موجودہ عملی پالیسیوں کو جاری رکھا گیا تو تخمینہ تقریباً 2.8 ڈگری بنتا ہے۔ رپورٹ نے پچھلے سال کے اندازے کے مقابلے میں اندازاً 0.1 ڈگری کا اضافہ نوٹ کیا اور اس میں امریکا کے پیرس معاہدے سے رسمی انخلا اور تاریخی اخراج کے بعض تخمینوں کی نظرثانی کو پیش رفت میں پیچھے ہٹنے والے اہم عوامل میں شمار کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں امریکا کے گرین ہاؤس گیس اخراج میں تقریباً 133 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ مساوی اضافہ درج ہوا، اور عالمی راستہ بدلنے کے لیے اس دہائی میں اخراج میں بہت تیز کمی (تقریباً 2030 تک 18 فیصد اور 2040 تک 69 فیصد) ضروری ہے۔ مزید برآں دستاویز نے بڑھتی حدت کے ممکنہ نتائج میں شدید گرمی کی لہر، سیلاب، خشک سالی، فصلوں کے نقصانات، سمندر کی سطح میں اضافہ اور کم آمدنی والے ممالک پر وسیع معاشی و انسانی اثرات کو اجاگر کیا۔ رپورٹ کسی ایک ملک کو تنہا ذمہ دار قرار نہیں دیتی مگر نوٹ کرتی ہے کہ چند بڑی معیشتوں کی پالیسیاں اور حالیہ اخراجی رجحانات عالمی پیش رفت کو متاثر کر رہے ہیں، اور مستقبل میں ممالک کے نئے قومی منصوبے، صاف توانائی میں سرمایہ کاری اور فوسل فیول کے حقیقی کم ہونے سے ہی موجودہ 2.6–2.8 ڈگری کے راستے کو نیچے لایا جا سکتا ہے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

اقوامِ متحدہ کا موسمیاتی جائزہ: 2100 تک ممکنہ عالمی حدت | اردو ہیڈ لائنز