واشنگٹن: اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی تازہ جائزہ رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا موسمیاتی تبدیلی کو محدود کرنے کے اپنے اہداف سے مزید دور ہو رہی ہے اور موجودہ قومی وعدوں پر مکمل عمل کی صورت میں بھی صدی کے اختتام تک اوسط عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ سکتا ہے۔ موجودہ عملی پالیسیوں کی بنیاد پر تخمینہ تقریباً 2.8 ڈگری تک پہنچتا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تازہ تخمینہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 0.1 ڈگری زیادہ ہے۔ رپورٹ نے اس تبدیلی کی وجوہ میں امریکا کے پیرس معاہدے سے باضابطہ انخلا اور تاریخی اخراج کے بعض تخمینوں میں نظرثانی کا ذکر کیا۔ پیرس معاہدے کا مرکزی مقصد عالمی حدت کو 2 ڈگری سے خاصا کم رکھنا اور 1.5 ڈگری کی حد کے قریب رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں امریکا کے گرین ہاؤس گیس اخراج میں تقریباً 133 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ مساوی اضافہ ہوا، جسے بجلی کی زیادہ طلب اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے میں واپسی سے جوڑا گیا۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں اخراج بڑھا، ان کے مجموعی اضافے کا بڑا حصہ امریکا سے آیا۔ یہ اعداد اقوام متحدہ کے تجزیے پر مبنی ہیں اور مختلف قومی حسابی طریقوں میں معمولی فرق ممکن ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق موجودہ راستے کو بدلنے کے لیے عالمی اخراج میں اس دہائی کے دوران بہت تیز کمی درکار ہے۔ رپورٹ نے 2030 تک اخراج میں تقریباً 18 فیصد اور 2040 تک 69 فیصد کمی کی ضرورت کا حوالہ دیا تاکہ زیادہ شدید حدت کے امکانات کم کیے جا سکیں۔ یہ کمی عالمی سطح پر توانائی، صنعت، نقل و حمل، زراعت اور زمین کے استعمال میں وسیع تبدیلیوں کا تقاضا کرتی ہے۔

زیادہ درجہ حرارت کے نتائج محض اوسط عالمی عدد تک محدود نہیں رہتے۔ سائنس دان طویل اور شدید گرمی کی لہروں، سیلاب، خشک سالی، فصلوں کے نقصانات، سمندر کی سطح میں اضافے اور قدرتی نظاموں پر دباؤ کو بڑھتی حدت سے جوڑتے ہیں۔ کم آمدنی والے اور موسمی خطرات سے زیادہ متاثر ممالک کے لیے ان اثرات کے معاشی اور انسانی نتائج نسبتاً زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کسی ایک ملک کو عالمی موسمیاتی مسئلے کا واحد ذمہ دار قرار نہیں دیتی، کیونکہ تاریخی اور موجودہ اخراج متعدد بڑی معیشتوں سے آتے ہیں۔ تاہم تازہ تجزیے میں امریکا کی حالیہ پالیسی تبدیلی اور 2025 کے اخراج میں اضافے کو عالمی پیش رفت میں پیچھے ہٹنے کے اہم عوامل میں شمار کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ موجودہ وعدے اور پالیسی اقدامات پیرس اہداف کے لیے کافی نہیں۔ آئندہ برسوں میں ممالک کے نئے قومی منصوبے، صاف توانائی میں سرمایہ کاری اور فوسل فیول استعمال میں عملی کمی اس بات کا تعین کریں گے کہ موجودہ 2.6 سے 2.8 ڈگری کے راستے کو کس حد تک نیچے لایا جا سکتا ہے۔