اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کے فاطمہ جناح پارک، المعروف ایف نائن پارک، کی مجوزہ اپ گریڈیشن سے متعلق ماحولیاتی خدشات کے جواب میں کہا ہے کہ منصوبے کے تحت ایک بھی درخت نہیں کاٹا جائے گا اور کوئی نیا کنکریٹ ڈھانچہ تعمیر نہیں کیا جائے گا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انہوں نے یہ وضاحت ایک ماحولیاتی کارکن اور اسکول ٹیچر عثمان کی جانب سے پارک کے مستقبل سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کے بعد سوشل میڈیا پر جاری کی۔

محسن نقوی نے کہا کہ منصوبے کا مقصد ایف نائن پارک کو زیادہ سرسبز، محفوظ اور خاندانوں و شہریوں کے لیے بہتر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ بہتریوں میں بہتر روشنی، ایک جھیل، کافی شاپس، بہتر واک ویز اور ہزاروں نئے درخت لگانا شامل ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں درخت نہ کاٹنے کی مکمل ضمانت دینے اور نئے کنکریٹ ڈھانچوں سے گریز کرنے کی بات کی۔

یہ وضاحت اس اعلان کے چند روز بعد سامنے آئی جس میں وزیر داخلہ نے ایف نائن پارک کو لندن کے ہائیڈ پارک کی طرز پر بہتر بنانے اور اسلام آباد میں مزید چار پارک بنانے کے منصوبے کا ذکر کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد بعض شہریوں اور ماحولیاتی کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ’اپ گریڈیشن‘ کے نام پر سبز رقبے میں تعمیرات یا درختوں کی کٹائی ہو سکتی ہے۔

عثمان نے اپنی ویڈیو میں کہا تھا کہ تقریباً 400 ایکڑ پر پھیلا ایف نائن پارک اسلام آباد کے ماحول اور آنے والی نسلوں کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے پارک کی زمین میں بارش کے پانی کے جذب ہونے اور زیر زمین پانی کے ذخائر میں اس کے کردار کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حکام سے کہا کہ بڑے تعمیراتی ڈھانچوں کے بجائے مزید اور متنوع مقامی درخت لگائے جائیں۔ یہ موقف ایک شہری اور ماحولیاتی کارکن کی تشویش ہے، جبکہ منصوبے کی تکنیکی تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے مکمل طور پر جاری ہونا باقی ہیں۔

اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پہلے ہی بحث کا موضوع رہی ہے۔ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے پولن الرجی کم کرنے کی مہم کے تحت ہزاروں پیپر ملبری درخت ہٹائے تھے اور کہا تھا کہ ان کی جگہ مقامی اور ماحول کے لیے موزوں انواع لگائی جائیں گی۔ اس کارروائی پر ماحولیاتی حلقوں اور رہائشیوں نے اعتراضات کیے جبکہ وزارت موسمیاتی تبدیلی نے بھی عدالتی کارروائی میں درخت کاٹنے سے پہلے ضروری منظوریوں کے معاملے کی نشاندہی کی تھی۔

محسن نقوی کی نئی یقین دہانی ایف نائن پارک کے موجودہ سبز رقبے کے تحفظ سے متعلق ایک واضح سرکاری مؤقف ہے۔ تاہم اس وعدے کی عملی جانچ اس وقت ممکن ہوگی جب تفصیلی ڈیزائن، تعمیراتی حدود، جھیل اور تجارتی سہولیات کے مقامات اور شجرکاری کا منصوبہ سامنے آئے گا۔ شہری منصوبہ بندی کے نقطۂ نظر سے اصل چیلنج پارک میں سہولیات بہتر بنانے اور اس کی ماحولیاتی و آبی اہمیت برقرار رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔