اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وفاقی دارالحکومت کے ایف نائن پارک کی مجوزہ اپ گریڈیشن کے بارے میں یقین دہانی کرائی ہے کہ منصوبے کے دوران ایک بھی درخت نہیں کاٹا جائے گا اور نئی کنکریٹ عمارتیں تعمیر نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ پارک کی قدرتی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اسے زیادہ سبز، محفوظ اور خاندانوں کے لیے بہتر تفریحی مقام بنانا حکومت کا مقصد ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق مجوزہ بہتریوں میں پارک کی روشنی کا نظام بہتر بنانا، ایک جھیل بنانا، کافی شاپس قائم کرنا، واک ویز کو اپ گریڈ کرنا اور ہزاروں اضافی درخت لگانا شامل ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ایف نائن پارک اسلام آباد کے رہائشیوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، اس لیے ترقیاتی کاموں کے دوران موجودہ سبزہ اور درختوں کا تحفظ کیا جائے گا۔
اعلان میں یہ وضاحت اہم ہے کہ نئی سہولتوں کے باوجود مستقل کنکریٹ ڈھانچوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ شہری پارکوں کی اپ گریڈیشن میں عموماً تفریحی سہولتوں اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن ایک اہم مسئلہ ہوتا ہے، خصوصاً ایسے بڑے سبز مقامات میں جو شہری درجہ حرارت، فضائی معیار اور عوامی صحت کے لیے کردار ادا کرتے ہیں۔ ایف نائن پارک اسلام آباد کے بڑے شہری سبز علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
ابھی منصوبے کے مجموعی بجٹ، تعمیراتی شیڈول، جھیل کے حجم، کافی شاپس کے ڈیزائن یا ماحولیاتی جائزے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ اسی لیے درخت نہ کاٹنے اور کنکریٹ تعمیرات نہ بڑھانے کی یقین دہانی کے ساتھ آئندہ مرحلے میں تفصیلی ڈیزائن اور عملدرآمد کی نگرانی اہم ہوگی۔ نئی جھیل اور تجارتی سہولتوں کے لیے پانی، نکاسی اور فضلے کے انتظام کے تقاضے بھی منصوبہ بندی کا حصہ بننے چاہییں گے۔
وفاقی دارالحکومت میں شہری سبز مقامات پر آبادی اور تفریحی استعمال کا دباؤ بڑھنے کے باعث پارکوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر اعلان کردہ منصوبہ موجودہ درختوں کے تحفظ، مزید شجرکاری اور پیدل چلنے کی بہتر سہولتوں کے ساتھ نافذ ہوتا ہے تو ایف نائن پارک کی تفریحی افادیت بڑھ سکتی ہے۔ تاہم اس دعوے کی عملی جانچ منصوبے کے حتمی نقشوں، تعمیراتی سرگرمی اور بعد از تکمیل سبز رقبے کے تحفظ سے ہوگی۔

