کراچی میں سول سوسائٹی، شہری ماہرین اور کلفٹن و ڈیفنس کے رہائشیوں کے نمائندوں نے مجوزہ قیوم آباد-کراچی پورٹ ایلیویٹڈ کوریڈور منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے ماحولیاتی، صحت عامہ اور شہری زندگی پر ممکنہ اثرات پر سنگین تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ بھاری گاڑیوں کی مسلسل آمدورفت رہائشی علاقوں میں شور، فضائی آلودگی اور پرائیویسی کے مسائل بڑھا سکتی ہے۔

ڈان کے مطابق کراچی سٹیزنز فورم کی جانب سے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ہاؤس میں پریس کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں ماہرین، غیر سرکاری تنظیموں اور مقامی رہائشیوں نے 16.5 کلومیٹر طویل چار لین کے مجوزہ بلند کوریڈور پر اعتراضات پیش کیے۔ منصوبے کا مقصد کراچی پورٹ کے ایسٹ وہارف کو شہر کی اندرونی ٹریفک سے بچاتے ہوئے شاہراہ بھٹو سے براہ راست ملانا بتایا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مئی میں 65 ارب روپے کے اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا، جسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت تعمیر کرنے کی تجویز ہے۔ مجوزہ راستہ ایسٹ اور ویسٹ وہارف اور ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینلز سے شروع ہو کر چِنا کریک، بوٹ بیسن، خیابان جامی، پنجاب چورنگی، دہلی کالونی اور سن سیٹ بلیوارڈ سے گزرتے ہوئے کورنگی روڈ کے ذریعے شاہراہ بھٹو سے منسلک ہوگا۔

کراچی سٹیزنز فورم کی کنوینر نرگس رحمان نے مؤقف اختیار کیا کہ کوریڈور کی رہائشی علاقوں سے قربت مسلسل شور، ماحول، صحت اور پرائیویسی پر اثر ڈال سکتی ہے۔ آرکیٹیکٹ عارف بیلگامی نے اندازہ پیش کیا کہ روزانہ 13 ہزار سے زیادہ بھاری گاڑیاں کلفٹن اور ڈیفنس سے گزریں گی، جس سے علاقے میں آلودگی اور ٹریفک کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ تعداد منصوبے کے مخالف ماہر کی جانب سے پیش کیا گیا تخمینہ ہے، سرکاری طور پر تصدیق شدہ حتمی ٹریفک شمار نہیں۔

شہری تنظیموں نے منصوبے کے لیے عوامی مشاورت کے طریقہ کار پر بھی اعتراض کیا۔ اربن ریسورس سینٹر اور کراچی اربن لیب سے وابستہ نمائندوں نے کہا کہ بڑے شہری انفراسٹرکچر منصوبوں پر متاثرہ آبادی کے ساتھ زیادہ جامع مشاورت ہونی چاہیے۔ بعض شرکا نے مینگرووز اور ساحلی ماحول کو ممکنہ نقصان کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔

یہ پریس کانفرنس منصوبے کی منسوخی یا کسی عدالتی فیصلے کا اعلان نہیں بلکہ سول سوسائٹی کی مخالفت ہے۔ منصوبے کے حامی اسے بندرگاہ کی بھاری ٹریفک کو تیز رفتار راستہ دینے اور شہر کے اندرونی حصوں پر دباؤ کم کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالفین کے مطابق مجوزہ راستے کی سماجی اور ماحولیاتی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔

آگے چل کر منصوبے کی ماحولیاتی منظوری، ٹریفک اسٹڈیز، عوامی مشاورت اور سرکاری جواب اہم ہوں گے۔ شہری تنظیموں کے اٹھائے گئے اعتراضات کی درست جانچ کے لیے ماحولیاتی اثرات کی تفصیلی رپورٹ اور منصوبے کے ڈیزائن و ٹریفک تخمینوں کا عوامی جائزہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔