گلگت بلتستان میں برفانی چیتوں کی بقا کو موسمیاتی تبدیلی، غیر قانونی شکار، قدرتی شکار کی کمی، رہائش گاہوں کی تقسیم اور انسان و جنگلی حیات کے تنازع سے بڑھتے خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین نے بین الاقوامی یوم برفانی چیتا کے موقع پر کہا کہ پاکستان میں اس نایاب جانور کے سب سے بڑے مسکن والے خطے میں مسلسل سائنسی نگرانی اور تحفظ کے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ نے اپنے پیغام میں برفانی چیتے کو پہاڑی ماحولیاتی نظام کے توازن کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی، آلودگی اور حیاتیاتی تنوع میں کمی کو بڑے خطرات میں شمار کیا۔ سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کی 2009 سے 2019 کے درمیان کی گئی تحقیق میں پاکستان میں 167 برفانی چیتوں کی موجودگی کا اندازہ سامنے آیا تھا، جبکہ اس سے پہلے عمومی اندازے 250 سے 450 تک رہے تھے۔ تحقیق کے مصنف ڈاکٹر حسین علی کے مطابق یہ پاکستان میں آبادی کا سائنسی اندازہ لگانے کی ابتدائی جامع کوششوں میں شامل تھی۔
گلگت بلتستان کے چیف کنزرویٹر پارکس اینڈ وائلڈ لائف زاکر حسین نے کہا کہ انسانی سرگرمیاں برفانی چیتوں کی آبادی پر دباؤ بڑھا رہی ہیں۔ ان کے مطابق انسانی و جنگلی حیات تنازع، انتقامی ہلاکتیں اور رہائش گاہوں کا ٹکڑوں میں تقسیم ہونا اہم خطرات ہیں۔ قدرتی شکار کی تعداد کم ہونے سے بھی چیتے مویشیوں کی طرف آ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں چرواہے نقصان کے ردعمل میں انہیں مار سکتے ہیں۔
برفانی چیتے کی قدرتی خوراک میں آئی بیکس، بلیو شیپ، مارخور، لداخ یوریال اور مارکو پولو شیپ جیسے پہاڑی جانور شامل ہیں۔ ان جانوروں کا غیر قانونی شکار کم ہونے کے بجائے جاری رہے تو شکاری جانوروں کے لیے خوراک محدود ہوتی ہے اور انسانی آبادیوں کے قریب آنے کا امکان بڑھتا ہے۔ بعض علاقوں میں زہر آلود لاشیں یا براہ راست فائرنگ بھی برفانی چیتوں کی ہلاکت کا سبب بنتی ہیں، جبکہ کھال اور ہڈیوں کی غیر قانونی تجارت ایک الگ خطرہ ہے۔
سڑکیں، کان کنی، باڑیں اور غیر منظم سیاحتی انفراسٹرکچر بھی برفانی چیتے کے بڑے قدرتی علاقے کو تقسیم کر سکتے ہیں۔ نوجوان چیتے مختلف پہاڑی نظاموں کے درمیان طویل فاصلے طے کرتے ہیں، اس لیے قدرتی راہداریوں میں رکاوٹ ان کی افزائش اور جینیاتی تنوع پر اثر ڈال سکتی ہے۔ بدلتے موسمی نمونے، برف کی کمی اور پانی و نباتات میں تبدیلی بھی مسکن کو متاثر کر رہی ہے۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق جہاں مقامی تحفظ مؤثر ہے اور قدرتی شکار کی آبادی بہتر ہوئی ہے وہاں برفانی چیتوں کے رجحانات نسبتاً مثبت ہیں۔ حکام گزشتہ کئی برس سے مویشیوں کے نقصان کے لیے معاوضے کا نظام قائم کرنے پر بھی کام کر رہے ہیں تاکہ چرواہوں کی جانب سے انتقامی ہلاکتوں کا خطرہ کم کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق طویل مدتی تحفظ کے لیے باقاعدہ آبادی سروے، مقامی کمیونٹیز کی شمولیت، غیر قانونی شکار کے خلاف نفاذ، قدرتی شکار کی بحالی اور موسمیاتی تبدیلی کے مطابق مسکن کی منصوبہ بندی ضروری ہوگی۔ موجودہ اعداد کو تازہ جامع مردم شماری کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا، اس لیے نئی سائنسی نگرانی پالیسی سازی کے لیے اہم ہے۔

