نئی دہلی: بھارت کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں مجوزہ سیانگ اپر کثیر المقاصد منصوبے کے خلاف احتجاج کے دوران مقامی افراد اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ یہ منصوبہ دریائے سیانگ پر 11,200 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے ساتھ تجویز کیا گیا ہے اور مقامی آبادی کا ایک حصہ زمین، ماحول اور ممکنہ نقل مکانی کے خدشات کے باعث اس کی مخالفت کر رہا ہے۔
مقامی اطلاعات کے مطابق کشیدگی اس وقت بڑھی جب حکام اور نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن سے وابستہ ٹیمیں منصوبے سے متعلق ابتدائی سروے اور جانچ کے لیے علاقے میں پہنچیں۔ مظاہرین نے سروے کی سرگرمی روکنے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی۔ جھڑپوں میں مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
سیانگ دریا آگے چل کر بھارت میں برہم پتر کے نام سے بہتا ہے اور خطے کے آبی، ماحولیاتی اور معاشی نظام میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ مجوزہ منصوبے کے حامی اسے بجلی کی پیداوار، سیلابی انتظام اور بالائی دھارے میں چین کی آبی سرگرمیوں کے تناظر میں اہم قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب مقامی تنظیموں اور متاثرہ آبادی کے نمائندے کہتے ہیں کہ بڑے ذخیرے سے دیہات، زرعی زمین، جنگلات اور روایتی طرز زندگی متاثر ہو سکتا ہے۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ کسی بھی بڑے تعمیراتی مرحلے سے پہلے مقامی برادریوں کی آزادانہ اور باخبر رضامندی حاصل کی جائے اور ممکنہ سماجی و ماحولیاتی اثرات مکمل طور پر واضح کیے جائیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ موجودہ سرگرمیاں منصوبے کی عملی حیثیت جانچنے کے لیے ابتدائی تحقیق کا حصہ ہیں اور حتمی تعمیر کا فیصلہ تمام ضروری جائزوں کے بعد ہوگا۔
یہ تنازع ہمالیائی خطے میں بڑے پن بجلی منصوبوں سے جڑے وسیع تر سوالات کو بھی نمایاں کرتا ہے، جہاں توانائی کی ضرورت، سرحدی حکمت عملی، ماحولیاتی تحفظ اور مقامی آبادی کے حقوق ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ حالیہ جھڑپوں کے بعد انتظامیہ کے لیے فوری چیلنج امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے سروے اور مقامی خدشات کا قابل قبول طریقہ کار طے کرنا ہے۔

