خیبر پختونخوا انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی، کے پی ای پی اے، اگلے ہفتے ماحولیاتی منظوری اور نگرانی کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل نظام شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ Digitalisation of Environmental Approvals and Monitoring System یا DEAMS کا مقصد درخواستوں، ماحولیاتی ضابطوں کی تعمیل اور فیلڈ مانیٹرنگ کے روایتی کاغذی طریقہ کار کو ایک مربوط اور قابلِ سراغ ڈیجیٹل فریم ورک میں منتقل کرنا ہے۔
ڈان نے ایک سرکاری بیان کے حوالے سے بتایا کہ یہ نظام Green Environment Laboratory and Solutions اور Geo Solutions نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ منصوبے کے تحت ماحولیاتی منظوری کے لیے درخواست جمع کرانے سے لے کر جانچ، ریکارڈ محفوظ کرنے اور بعد کی نگرانی تک مختلف مراحل کو ڈیجیٹل کیا جائے گا۔ اس کا مقصد انتظامی تاخیر کم کرنا اور فیصلوں و تعمیل کے ریکارڈ کو زیادہ شفاف اور قابل تصدیق بنانا ہے۔
محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات کے سیکریٹری جنید خان کے مطابق نئے نظام سے درخواست جمع کرانے اور جانچنے کا عمل آسان ہوگا، انتظامی تاخیر میں کمی آئے گی اور ریکارڈ کی تصدیق بہتر بنائی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سے ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد کی نگرانی مضبوط بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
ماحولیاتی منظوری کے نظام میں صنعتوں، تعمیراتی منصوبوں اور دیگر ترقیاتی سرگرمیوں کے اثرات کا جائزہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کاغذی ریکارڈ اور مختلف دفاتر کے درمیان دستی کارروائی کی وجہ سے درخواستوں کی پیش رفت، شرائط پر عمل درآمد اور فیلڈ انسپیکشن کی تاریخ کو ایک جگہ دیکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ ڈیجیٹل نظام اس معلومات کو مربوط کرنے کی کوشش کرے گا۔
DEAMS کے اعلان کو مکمل کامیابی کے بجائے نظام کے متوقع آغاز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اس کی مؤثریت کا انحصار عملی نفاذ، متعلقہ اہلکاروں کی تربیت، ڈیٹا کے معیار، آن لائن سروس کی دستیابی اور فیلڈ انسپیکشن کے نتائج کو درست طور پر نظام میں شامل کرنے پر ہوگا۔ اسی طرح درخواست گزاروں اور سرکاری افسران دونوں کے لیے واضح طریقہ کار ضروری ہوگا۔
اگر نظام منصوبے کے مطابق کام کرتا ہے تو ماحولیاتی اجازت ناموں کی پیش رفت، ضابطہ جاتی شرائط اور مانیٹرنگ ریکارڈ کی ٹریکنگ زیادہ منظم ہوسکتی ہے۔ حکومت کے لیے اگلا اہم مرحلہ باضابطہ لانچ، استعمال کے قواعد اور اس بات کی وضاحت ہوگا کہ پرانے زیر التوا کیسز اور نئے درخواست گزاروں کو DEAMS پر کس طرح منتقل کیا جائے گا۔

