اسلام آباد: نیشنل بائیو سیفٹی کمیٹی (این بی سی) نے اپنے اجلاس میں زیر التوا ریگولیٹری کیسز پر غور مؤخر کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ درخواستوں پر اس اجلاس میں کوئی حتمی منظوری یا مسترد کیے جانے کا فیصلہ نہیں ہوا اور انہیں آئندہ کارروائی کے لیے زیر التوا رکھا گیا ہے۔

نیشنل بائیو سیفٹی کمیٹی پاکستان میں حیاتیاتی تحفظ سے متعلق ریگولیٹری نظام کا اہم حصہ ہے۔ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ جانداروں، بیجوں یا متعلقہ biotechnology سرگرمیوں سے جڑے معاملات میں ماحول، انسانی و حیوانی صحت اور biosafety standards سے متعلق تکنیکی جائزہ ضروری ہو سکتا ہے۔ مختلف درخواستیں مقررہ قانونی اور سائنسی طریقہ کار کے تحت کمیٹیوں کے سامنے آتی ہیں۔

کسی کیس کا مؤخر ہونا منظوری کے مترادف نہیں اور نہ ہی اسے لازماً مسترد ہونا سمجھا جا سکتا ہے۔ ریگولیٹری ادارے اضافی دستاویزات، تکنیکی رائے، risk assessment یا دیگر قانونی تقاضوں کی تکمیل کے لیے فیصلہ ملتوی کر سکتے ہیں۔ زیر التوا درخواستوں کی حتمی حیثیت اگلے اجلاس یا متعلقہ کارروائی کے بعد ہی واضح ہوگی۔

بائیو سیفٹی فیصلوں میں سائنسی شواہد کے ساتھ زرعی پیداوار، ماحولیات اور تجارتی اثرات بھی زیر بحث آ سکتے ہیں۔ جینیاتی ٹیکنالوجی کے حامی اسے پیداوار اور فصلوں کی مزاحمت بہتر بنانے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین ماحولیاتی اثرات، seed systems اور طویل مدتی نگرانی سے متعلق احتیاط پر زور دیتے ہیں۔ ریگولیٹری نظام کا مقصد انہی ممکنہ فوائد اور خطرات کو قواعد کے تحت جانچنا ہے۔

پاکستان میں biotechnology اور genetically modified crops سے متعلق فیصلے زرعی شعبے کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ بیج کی منظوری، درآمد، تجرباتی آزمائش اور تجارتی کاشت کے مختلف مراحل الگ قانونی تقاضوں کے تابع ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک کمیٹی اجلاس کے التوا کو پورے شعبے کے لیے عمومی پابندی یا منظوری قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

موجودہ پیش رفت کا بنیادی نتیجہ یہی ہے کہ زیر غور کیسز کی ریگولیٹری حیثیت تبدیل نہیں ہوئی اور حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔ متعلقہ درخواست گزاروں اور دیگر فریقوں کو آئندہ اجلاس یا سرکاری نوٹیفکیشن کا انتظار کرنا ہوگا، جہاں ہر کیس کے تکنیکی اور قانونی ریکارڈ کی بنیاد پر الگ فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔