تائی پے: طاقتور طوفان چمپی تائیوان اور جاپان کے جنوبی جزیروں کو متاثر کرنے کے بعد ہفتے کے روز چین کے مشرقی ساحل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ طوفان کی شدت میں کمی آئی ہے اور جوائنٹ ٹائفون وارننگ سینٹر کے مطابق اسے ٹائفون سے گھٹا کر ٹراپیکل اسٹورم قرار دیا گیا، تاہم اس کے ساتھ تیز ہوائیں اور شدید بارش اب بھی خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق تائیوان میں حکام نے طوفان سے پہلے پانچ ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ تیز ہواؤں نے درخت اور بجلی کی لائنیں گرائیں جبکہ بعض علاقوں میں مختصر دورانیے کی سیلابی صورتحال بھی پیدا ہوئی۔ جمعرات سے جاری طوفانی حالات میں ایک شخص کی ہلاکت اور 600 سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔
تائیوان میں تین لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ گھرانوں کی بجلی متاثر ہوئی تھی، جن میں سے 90 فیصد سے زیادہ کی سپلائی بحال کر دی گئی۔ شمالی اور وسطی تائیوان میں بہت سی دکانیں مسلسل دوسرے روز بند رہیں۔ حکام نے خبردار کیا کہ طوفان کے جزیرے سے دور ہونے کے باوجود ساحلی علاقوں میں بلند لہریں اور اچانک تیز جھکڑ جاری رہ سکتے ہیں۔
چمپی حالیہ دنوں میں سمندر کے اوپر انتہائی طاقتور سپر ٹائفون بھی رہا اور اس کی زیادہ سے زیادہ مسلسل ہواؤں کی رفتار تقریباً 300 کلومیٹر فی گھنٹہ تک رپورٹ ہوئی۔ بعد میں اس کی شدت کم ہوئی۔ تائیوان کے شمال مشرقی ییلان کاؤنٹی کے قریب اس نے رخ بدلتے ہوئے شدید بارش برسائی، جہاں جمعرات سے کم از کم 65 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کیے جانے کی اطلاع ہے۔
چینی حکام نے مشرقی ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں اور شدید بارش کا انتباہ جاری کیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق جیانگ سو، شنگھائی، ژی جیانگ اور دیگر علاقوں میں بھاری سے انتہائی بھاری بارش ہو سکتی ہے۔ بعض ریل سروسز معطل کی گئی ہیں اور شنگھائی میں دسیوں ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ خطے میں سینکڑوں پروازیں بھی منسوخ ہوئیں، جن میں جاپان کے اوکیناوا کی پروازیں شامل ہیں۔
موسمی ماہرین چمپی کو مصروف بحرالکاہل طوفانی سیزن کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایل نینو کے باعث خط استوا کے قریب بحرالکاہل کے پانی غیر معمولی طور پر گرم ہوئے ہیں، جس سے مختلف علاقوں میں شدید بارش، سیلاب اور خشک سالی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ چمپی کے چین کے قریب پہنچنے کے ساتھ حکام نے ساحلی آبادی کو تازہ سرکاری انتباہات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

