راس الخیمہ: متحدہ عرب امارات کی ریاست راس الخیمہ نے ہفتے کے روز اپنے تمام ساحل اگلے حکم تک بند کرنے کا اعلان کیا ہے، یہ اقدام ایک آف شور ٹینکر سے تیل کے رساؤ کے بعد پڑوسی ام القیوین اور شارجہ میں ساحلی بندشوں کے ایک دن بعد سامنے آیا۔
رائٹرز کے مطابق راس الخیمہ کے پبلک سروسز ڈیپارٹمنٹ نے پولیس جنرل ہیڈکوارٹرز کے ذریعے جاری بیان میں ساحل بند کرنے کا اعلان کیا، تاہم اس مختصر بیان میں الگ سے وجہ نہیں بتائی گئی۔ ایک روز قبل متحدہ عرب امارات کی وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات نے کہا تھا کہ سمندر میں ایک ٹینکر سے رسنے والے تیل کو محدود کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ام القیوین شہر کے تمام ساحل اور ساحلی علاقے عارضی طور پر بند کیے گئے ہیں تاکہ تکنیکی ٹیمیں صورتحال کا جائزہ مکمل کر سکیں اور سمندری ماحول اور عوامی تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا تعین کیا جا سکے۔ وزارت نے ماہی گیروں اور دیگر سمندری صارفین کو متاثرہ علاقوں سے دور رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔
شارجہ میں بھی ام القیوین کی سرحد کے قریب واقع الحمریہ بیچ کو احتیاطی طور پر عارضی بندش کا سامنا ہے۔ بعض رہائشیوں نے شارجہ، عجمان اور ام القیوین کے کچھ حصوں میں غیر معمولی بو کی شکایت کی، تاہم ماحولیات کی وزارت نے کہا کہ اس بو سے صحت کے لیے خطرہ ظاہر نہیں ہوا۔ ام القیوین میں جمعہ کو بو کافی تیز محسوس کیے جانے کی اطلاعات تھیں۔
حکام نے اب تک اس ٹینکر کا نام ظاہر نہیں کیا جس سے تیل کے رساؤ کی اطلاع ہے اور نہ ہی حادثے کی وجہ باضابطہ طور پر بتائی گئی ہے۔ اس لیے رساؤ کے حجم، ذمہ داری یا مکمل ماحولیاتی نقصان کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ سرکاری تکنیکی ٹیموں کی جانچ کے بعد ہی متاثرہ ساحلی پٹی اور سمندری حیات پر اثرات کی واضح تصویر سامنے آنے کی توقع ہے۔
خلیجی سمندری راستے عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہیں اور کسی بھی تیل کے رساؤ سے ماہی گیری، ساحلی ماحول، سیاحت اور مقامی آبادی متاثر ہو سکتی ہے۔ موجودہ بندشیں احتیاطی اور حفاظتی نوعیت کی ہیں، جبکہ راس الخیمہ نے ساحل دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی تاریخ نہیں دی۔ حکام کی اگلی ہدایات تک سمندر استعمال کرنے والوں کو متاثرہ علاقوں سے دور رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔

