نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ میں ترقی پذیر ممالک کے لیے موسمیاتی مالیات میں اضافے اور اس تک آسان رسائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات برداشت کرنے والے ممالک کو ایسے مالی وسائل درکار ہیں جو ان پر مزید ناقابل برداشت قرض کا بوجھ نہ ڈالیں۔ پاکستانی نمائندے نے موسمیاتی انصاف، موافقت اور نقصان و تباہی سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کی ضرورت اجاگر کی۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو بیک وقت موسمیاتی آفات، ترقیاتی ضروریات اور محدود مالی گنجائش کا سامنا ہے۔ سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور دیگر موسمیاتی خطرات بنیادی ڈھانچے، زراعت، پانی اور روزگار کو متاثر کرتے ہیں، جس کے باعث بحالی اور مستقبل کے تحفظ کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔

اسلام آباد نے عالمی مالیاتی نظام میں ایسی اصلاحات کی حمایت کی ہے جن سے موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کو گرانٹس، رعایتی فنانسنگ اور طویل مدت کے وسائل تک بہتر رسائی مل سکے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ صرف قرض پر مبنی مالی معاونت بعض کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کے لیے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، کیونکہ آفات کے بعد تعمیر نو کے اخراجات پہلے ہی سرکاری مالیات پر دباؤ بڑھاتے ہیں۔

پاکستان نے نقصان و تباہی کے لیے قائم بین الاقوامی مالی انتظامات کو مؤثر بنانے اور موافقت کے منصوبوں کے لیے وسائل بڑھانے پر بھی زور دیا۔ ملک خود 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد بڑے پیمانے پر تعمیر نو اور موسمیاتی لچک کے منصوبوں پر کام کرتا رہا ہے، جس نے عالمی موسمیاتی مذاکرات میں پاکستان کے مؤقف کو نمایاں کیا۔

موسمیاتی مالیات پر عالمی اتفاق رائے کے باوجود اصل چیلنج وعدوں کو بروقت اور قابل استعمال وسائل میں تبدیل کرنا ہے۔ مختلف ممالک کے درمیان فنڈنگ کی مقدار، ذرائع اور ذمہ داریوں کی تقسیم پر اختلافات برقرار ہیں۔ پاکستان کے تازہ مطالبے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ زیادہ خطرے سے دوچار ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی معاونت قابل پیش گوئی، آسان شرائط پر اور ان کی حقیقی موافقت و بحالی ضروریات کے مطابق ہونی چاہیے۔