اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی ایک رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور سمندر کی سطح میں اضافے کے باعث پاکستان کے ساحلی علاقوں کو آنے والی دہائیوں میں بڑھتے ہوئے سیلابی خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے تخمینوں کے مطابق 2100 تک تقریباً 14 لاکھ 80 ہزار افراد سالانہ ساحلی سیلاب کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں، اگر عالمی حدت اور ساحلی کمزوری کے موجودہ رجحانات برقرار رہے۔

پاکستان کی ساحلی پٹی بنیادی طور پر سندھ اور بلوچستان میں واقع ہے، جہاں کراچی جیسے بڑے شہری و صنعتی مرکز کے ساتھ ماہی گیری، بندرگاہی سرگرمیاں، مینگرووز اور کم بلندی والی آبادیاں موجود ہیں۔ سمندر کی سطح بلند ہونے سے صرف براہ راست سیلاب ہی نہیں بلکہ ساحلی کٹاؤ، زیر زمین پانی میں نمکیات، زرعی زمین کے نقصان اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

اے ڈی بی کی رپورٹ طویل مدتی climate risk assessment کا حصہ ہے اور اس میں دیے گئے اعداد مستقبل کے منظرناموں اور ماڈلز پر مبنی تخمینے ہیں، موجودہ سال میں متاثر ہونے والے افراد کی گنتی نہیں۔ 2100 تک حقیقی اثر عالمی اخراج میں کمی، درجہ حرارت کے راستے، آبادی کی جغرافیائی تقسیم، شہری منصوبہ بندی اور پاکستان کی adaptation سرمایہ کاری کے مطابق کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔

ساحلی شہروں کے لیے حفاظتی اقدامات میں بہتر drainage، flood-resilient infrastructure، ساحلی زوننگ، قدرتی دفاعی نظام خصوصاً مینگرووز کی بحالی، ابتدائی وارننگ اور خطرے سے دوچار آبادیوں کے لیے منصوبہ بندی شامل ہو سکتی ہے۔ کراچی میں شدید بارش اور سمندری حالات کے باہمی اثرات شہری نکاسی آب کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، جبکہ سندھ کے ڈیلٹائی علاقوں میں سمندری پانی کا اندرونِ خشکی داخل ہونا پہلے ہی ایک اہم ماحولیاتی مسئلہ ہے۔

موسمیاتی موافقت کے لیے مالی وسائل پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ بڑے حفاظتی انفراسٹرکچر، شہری نکاسی، قدرتی ecosystems کی بحالی اور مقامی آبادیوں کی منتقلی یا تحفظ کے منصوبوں پر طویل مدت میں بھاری سرمایہ درکار ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی موسمیاتی فنانس اور ترقیاتی اداروں کی معاونت اسی وجہ سے قومی منصوبہ بندی میں اہم سمجھی جاتی ہے۔

رپورٹ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ساحلی خطرات کو مستقبل کا دور کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے موجودہ انفراسٹرکچر اور شہری ترقی کے فیصلوں میں شامل کیا جائے۔ 14.8 لاکھ کا تخمینہ کسی یقینی تباہی کی پیش گوئی نہیں، بلکہ ایسا خطرے کا منظرنامہ ہے جسے اخراج میں کمی اور بروقت adaptation اقدامات کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔