لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں فضائی آلودگی اور سموگ کے خطرے کے پیش نظر ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی صنعتوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو صنعتی اخراج، دھواں پیدا کرنے والے یونٹس اور دیگر آلودگی کے ذرائع کی نگرانی مزید مؤثر بنانے کا حکم دیا۔

اجلاس میں موسم سرما کے دوران سموگ کی شدت کم کرنے کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ پنجاب، بالخصوص لاہور اور وسطی اضلاع، ہر سال سردیوں میں کم ہوا، درجہ حرارت کی مخصوص صورتحال، ٹرانسپورٹ، صنعتی اخراج، تعمیراتی گرد اور زرعی باقیات جلانے سمیت متعدد عوامل کے امتزاج سے شدید فضائی آلودگی کا سامنا کرتے ہیں۔ حکومت نے کہا کہ اس بار نفاذی کارروائی کو محض موسمی مہم تک محدود رکھنے کے بجائے مستقل نگرانی کے ساتھ جوڑا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ صنعتی یونٹس میں اخراج پر قابو پانے والے آلات اور مقررہ ماحولیاتی معیار کی پابندی کی جانچ کی جائے۔ جو صنعتیں قواعد پر عمل نہ کریں ان کے خلاف متعلقہ قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔ یہ ہدایت کسی مخصوص صنعتی ادارے کے خلاف جرم یا خلاف ورزی ثابت ہونے کا اعلان نہیں بلکہ ریگولیٹری اداروں کو معائنہ اور قانونی نفاذ سخت کرنے کا حکم ہے۔

صوبائی انتظامیہ نے ٹرانسپورٹ سے نکلنے والے دھوئیں اور دیگر شہری ذرائع کی نگرانی بھی جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ فضائی معیار بہتر بنانے کے لیے صنعتی اخراج کے ساتھ گاڑیوں کی فٹنس، تعمیراتی مقامات پر گرد، کچرا جلانے اور فصلوں کی باقیات کے معاملات کو بھی مربوط حکمت عملی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ مختلف ذرائع سے پیدا ہونے والی آلودگی کے باعث کسی ایک شعبے کے خلاف کارروائی سے مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتا۔

صحت عامہ کے ماہرین طویل عرصے سے خبردار کرتے رہے ہیں کہ باریک ذرات پر مشتمل فضائی آلودگی سانس اور قلب سے متعلق بیماریوں کے خطرات بڑھا سکتی ہے، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کے لیے۔ اسی وجہ سے فضائی معیار کی بروقت نگرانی، عوامی معلومات اور اخراج کم کرنے کے اقدامات کو سموگ پالیسی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے متعلقہ اداروں سے نفاذی سرگرمیوں کی باقاعدہ رپورٹنگ اور قوانین کی خلاف ورزی پر یکساں کارروائی کا مطالبہ کیا۔ صوبائی حکومت کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ صنعتی اور شہری سرگرمی برقرار رکھتے ہوئے اخراج کے معیار پر مسلسل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ سموگ کے موسم میں فوری کارروائی کے ساتھ طویل مدتی فضائی معیار بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی، نگرانی اور ضابطہ کاری میں مستقل سرمایہ کاری بھی درکار ہوگی۔