اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وفاقی دارالحکومت کے ایف نائن پارک، جسے فاطمہ جناح پارک بھی کہا جاتا ہے، کی مجوزہ اپ گریڈیشن کے دوران درختوں کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت ایک بھی درخت نہیں کاٹا جائے گا اور پارک میں نئے کنکریٹ ڈھانچے تعمیر کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔
ڈان کے مطابق وزیر داخلہ نے ایک شہری کی جانب سے سوشل میڈیا پر اٹھائے گئے خدشات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایف نائن پارک اسلام آباد کے رہائشیوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ شہری نے مطالبہ کیا تھا کہ پارک کی ترقی کے نام پر سبزہ کم کرنے یا بڑی کنکریٹ تعمیرات کے بجائے مزید شجرکاری کی جائے۔ محسن نقوی نے اس پر واضح کیا کہ موجودہ درخت محفوظ رہیں گے۔
وزیر داخلہ کے مطابق مجوزہ بہتری کے کاموں میں بہتر روشنی، ایک خوبصورت جھیل، کافی شاپس، بہتر واک ویز اور ہزاروں مزید درخت لگانا شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کا مقصد پارک کو خاندانوں اور دیگر شہریوں کے لیے زیادہ سبز، محفوظ اور بہتر تفریحی مقام بنانا ہے۔
ایف نائن پارک کی ترقی کا معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کہ اسلام آباد میں ماضی قریب کے بعض ترقیاتی اقدامات کے دوران درختوں کی کٹائی پر شہری حلقوں نے سخت اعتراضات کیے تھے۔ رواں سال کے آغاز میں شکرپڑیاں سمیت مختلف مقامات پر درخت ہٹائے جانے پر بھی تنقید سامنے آئی تھی۔ حکام نے اس وقت مؤقف اختیار کیا تھا کہ الرجی کا باعث بننے والے پیپر ملبری درخت ہٹائے گئے اور ان کی جگہ زیادہ شجرکاری کی جائے گی۔
2024 میں سپریم کورٹ نے بھی ایف نائن پارک میں درختوں کی کٹائی کے معاملے کا نوٹس لے کر سی ڈی اے کو درخت کاٹنے سے روکا تھا۔ اس پس منظر میں وزیر داخلہ کی تازہ یقین دہانی اہم ہے، تاہم منصوبے کی ماحولیاتی نوعیت کا عملی جائزہ اس وقت ممکن ہوگا جب تفصیلی ڈیزائن، تعمیراتی حدود اور شجرکاری کا باقاعدہ منصوبہ سامنے آئے گا۔

