قومی بایو سیفٹی کمیٹی نے اپنے 38ویں اجلاس میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ زرعی مصنوعات سے متعلق متعدد زیر التوا درخواستوں پر حتمی فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔ ان درخواستوں میں خوراک، چارے اور پراسیسنگ کے لیے سویا بین میل کی درآمد، جی ایم مکئی کے بایو سیفٹی لائسنسوں کی تجدید اور کپاس سے متعلق مختلف معاملات شامل ہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق کمیٹی نے قرار دیا کہ ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کی جانب سے بھیجی گئی سفارشات میں حتمی فیصلے کے لیے مطلوبہ وضاحت اور واضح نتائج موجود نہیں تھے۔ اسی بنا پر کیسز کو دوبارہ تکنیکی کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا تاکہ ہر درخواست پر واضح سفارش اور نتیجہ فراہم کیا جا سکے۔
اجلاس وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ میں ہوا۔ اراکین نے جی ایم مکئی کی تجارتی سرگرمیوں پر ماضی میں عائد توقف کے بارے میں بھی وضاحت طلب کی۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے نمائندے نے بتایا کہ 2019 میں حکومت نے بایوٹیک غذائی فصلوں کی تجارتی سرگرمیوں کو اس وقت تک روکنے کا فیصلہ کیا تھا جب تک جامع پالیسی فریم ورک تیار نہ ہو جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل ایگریکلچرل بایوٹیکنالوجی پالیسی 2025 کی منظوری اور نوٹیفکیشن کے بعد اب زرعی بایوٹیکنالوجی مصنوعات کی جانچ اور تجارتی استعمال کے لیے ضابطہ جاتی فریم ورک موجود ہے۔ حکام کے مطابق اسی وجہ سے 2019 کے فیصلے کی بنیاد بننے والا پالیسی خلا ختم ہو چکا ہے اور متعلقہ اداروں کو منظور شدہ فریم ورک کے تحت آگے بڑھنے سے آگاہ کیا گیا ہے۔
تاہم موجودہ اجلاس میں کسی مخصوص جی ایم مکئی، کپاس یا سویا بین درخواست کی منظوری نہیں دی گئی۔ کیسز واپس بھیجنے کا مقصد تکنیکی جائزے کو زیادہ واضح بنانا ہے تاکہ قومی بایو سیفٹی کمیٹی خطرات، ضابطہ جاتی تقاضوں اور مجوزہ استعمال کے بارے میں مکمل ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلہ کر سکے۔ اگلا مرحلہ ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کی نظرثانی شدہ سفارشات پر منحصر ہوگا، اس لیے اس پیش رفت کو تجارتی منظوری کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

