اوکاڑہ: شہر کا پہلا ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ باقاعدہ طور پر فعال ہو گیا ہے، جس کے ذریعے شہری گندے پانی کو صاف کرکے قریبی زرعی اراضی کی آبپاشی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ منصوبے کے مطابق ٹریٹ شدہ پانی پانچ آس پاس کے دیہات میں تقریباً 1,700 ایکڑ زمین کو سیراب کرنے کے لیے فراہم کیا جائے گا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق منصوبہ اوکاڑہ میونسپل کارپوریشن نے تجویز کیا تھا اور اسے پنجاب سٹیز پروگرام کے تحت منظور کیا گیا، جبکہ مالی معاونت پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈز کمپنی کے ذریعے فراہم کی گئی۔ منصوبے کی مجموعی لاگت 901.268 ملین روپے بتائی گئی ہے۔ اس کا افتتاح رکن قومی اسمبلی چوہدری ریاض الحق جج نے کیا۔

منصوبے میں تقریباً چھ کلومیٹر طویل سیوریج لائن بھی شامل ہے جو شہر کے جنوبی حصے میں جی ٹی روڈ کے قریب دیپالپور چوک سے شروع ہو کر اوکاڑہ-دیپالپور روڈ پر واقع گاؤں 49/2L میں ٹریٹمنٹ پلانٹ تک جاتی ہے۔ اس لائن کا مقصد شہری گندے پانی کو پلانٹ تک پہنچانا ہے تاکہ اسے براہ راست ماحول یا زرعی زمین میں چھوڑنے کے بجائے صفائی کے مراحل سے گزارا جا سکے۔

پلانٹ کی یومیہ ٹریٹمنٹ صلاحیت 7.1 ملین گیلن ہے اور اس میں پانی کو مختلف مراحل سے گزارنے کے لیے چھ کنویں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نظام کی retention capacity دس دن ہے۔ موجودہ اخراج 18 کیوسک بتایا گیا ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ صلاحیت 50 کیوسک تک ہے۔ یہ اعداد منصوبے کی تکنیکی گنجائش کو ظاہر کرتے ہیں اور اصل روزانہ استعمال پانی کی آمد، آپریشن اور زرعی طلب کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔

گندے پانی کو صاف کرکے آبپاشی میں استعمال کرنے سے دو مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں: شہری سیوریج کے ماحولیاتی اثرات کم کرنا اور زراعت کے لیے متبادل پانی مہیا کرنا۔ تاہم منصوبے کی طویل مدتی افادیت کا انحصار مسلسل آپریشن، پانی کے معیار کی نگرانی، ضروری دیکھ بھال اور اس بات پر ہوگا کہ ٹریٹ شدہ پانی مقررہ حفاظتی معیار کے مطابق زرعی استعمال کے لیے فراہم کیا جاتا رہے۔

دستیاب رپورٹ میں پلانٹ کے فعال ہونے اور اس کی تکنیکی و مالی تفصیلات کی تصدیق کی گئی ہے، لیکن مستقبل میں مزید توسیع یا دوسرے شہروں میں اسی طرز کے منصوبوں کے لیے کسی نئے فیصلے کا ذکر نہیں۔ اس لیے اسے پنجاب بھر کے لیے کسی نئی عمومی اسکیم کے بجائے اوکاڑہ کے مخصوص شہری نکاسی و آبپاشی منصوبے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔