اسلام آباد: سکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دو الگ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 11 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ سرکاری ریڈیو پاکستان اور قومی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق جنوبی وزیرستان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی گئی، جبکہ بلوچستان کے ماشکیل علاقے میں ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر فائرنگ کے بعد فورسز نے جوابی کارروائی کی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ سرکاری رپورٹ میں کہا گیا کہ فورسز نے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور کارروائی کے دوران پانچ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ سکیورٹی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہلاک افراد کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔

بلوچستان کے گورندر، ماشکیل علاقے میں دوسری کارروائی کے بارے میں ریڈیو پاکستان نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مسلح افراد نے ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی اور بعد ازاں فرار ہونے کی کوشش کی۔ فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے چھ افراد کو ہلاک کردیا۔ سرکاری ذرائع نے ان افراد کو دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ قرار دیا، تاہم ہلاک افراد کی شناخت یا کسی آزاد ذریعے سے ان کی وابستگی کی تصدیق فوری طور پر سامنے نہیں آئی۔

ڈان نے بھی ریاستی میڈیا کے حوالے سے مجموعی طور پر 11 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی اور بتایا کہ جنوبی وزیرستان کی کارروائی کو جاری انسدادِ دہشت گردی مہم کا حصہ قرار دیا گیا۔ اسی طرح بلوچستان میں ہونے والی کارروائی کو سکیورٹی فورسز کے جاری آپریشنز کے تسلسل سے جوڑا گیا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں عسکریت پسند حملوں اور سکیورٹی آپریشنز میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ ریاستی ادارے ان کارروائیوں کو قومی انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی کے تحت جاری مہم کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عسکریت پسند نیٹ ورکس، ان کے ٹھکانوں اور سہولت کاری کے ڈھانچے کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

اس خبر میں ہلاکتوں، مبینہ تنظیمی وابستگی اور برآمد ہونے والے اسلحے سے متعلق تفصیلات سکیورٹی ذرائع اور سرکاری میڈیا کی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ آزاد ذرائع سے آپریشنز کی تمام تفصیلات کی فوری تصدیق ممکن نہیں تھی، اس لیے دعوؤں کو متعلقہ حکام سے منسوب کیا گیا ہے۔