اسلام آباد: انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق 11 سے 17 اکتوبر 2026 کے دوران پاکستان میں 517 افغان شہریوں کی گرفتاری یا حراست رپورٹ کی گئی۔ رپورٹ میں مختلف قانونی حیثیت رکھنے والے افغان باشندوں کے اعداد شامل ہیں اور یہ ڈیٹا چاغی، پشاور اور کراچی سمیت متعلقہ مقامات سے جمع کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق زیر جائزہ ہفتے میں گرفتاریوں اور حراستوں کی بڑی اکثریت افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والوں اور غیر دستاویزی افغان شہریوں پر مشتمل تھی۔ مجموعی طور پر ان دونوں گروہوں اور متعلقہ علاقوں سے رپورٹ ہونے والے کیسز کا حصہ 97 فیصد بتایا گیا، جبکہ پروف آف رجسٹریشن کارڈ رکھنے والوں کا حصہ تقریباً تین فیصد تھا۔ صوبائی تقسیم کے بارے میں رپورٹ نے بتایا کہ سب سے زیادہ حصہ بلوچستان میں ریکارڈ ہوا، جبکہ دیگر کیسز پنجاب اور خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے۔
آئی او ایم اور یو این ایچ سی آر کے مطابق 11 سے 17 اکتوبر کے دوران 3,883 افغان شہری طورخم، چمن اور بہرامچہ سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے افغانستان واپس گئے۔ ان میں 499 افراد کی واپسی ڈی پورٹیشن کے زمرے میں شمار کی گئی۔ اس سے ایک ہفتہ پہلے 4,295 واپسیوں میں 961 ڈی پورٹیشنز ریکارڈ ہوئی تھیں، یوں تازہ ہفتے میں مجموعی واپسی تقریباً 10 فیصد اور ڈی پورٹیشنز 48 فیصد کم رہیں۔
واپس جانے والوں میں غیر دستاویزی افراد کا تناسب سب سے زیادہ، 83 فیصد، بتایا گیا۔ افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والوں کا حصہ نو فیصد اور پروف آف رجسٹریشن کارڈ رکھنے والوں کا آٹھ فیصد تھا۔ رپورٹ کے مطابق PoR رکھنے والے بہت سے افراد کی واپسی یو این ایچ سی آر کے رضاکارانہ واپسی مراکز کے ذریعے عمل میں آئی۔ ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں تقریباً تمام افراد غیر دستاویزی تھے۔
مشترکہ رپورٹ کے مطابق 15 ستمبر 2023 سے 17 اکتوبر 2026 تک تقریباً 27 لاکھ 44 ہزار افغان شہری پاکستان سے افغانستان واپس جا چکے ہیں۔ یکم اپریل 2025 کے بعد واپس جانے والوں کی تعداد تقریباً 18 لاکھ 90 ہزار بتائی گئی، جن میں 2 لاکھ 37 ہزار سے زیادہ افراد، یعنی تقریباً 13 فیصد، ڈی پورٹ کیے گئے۔ یہ اعداد آئی او ایم اور یو این ایچ سی آر کی مانیٹرنگ پر مبنی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ غیر دستاویزی افراد اور افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والوں میں واپسی کی بنیادی وجہ گرفتاری کا خوف بتایا گیا، جبکہ PoR رکھنے والوں میں بھی یہ ایک نمایاں وجہ رہی۔ افغان شہریوں کی واپسی اور قانونی حیثیت کا معاملہ پاکستان کی امیگریشن، سرحدی انتظام، انسانی حقوق اور افغانستان کے ساتھ تعلقات سے جڑا حساس موضوع ہے، اس لیے مختلف زمروں اور رضاکارانہ واپسی و ڈی پورٹیشن کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

