اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے بینکوں اور مالیاتی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ کسانوں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور ہاؤسنگ شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی بڑھائیں۔ وزیراعظم آفس کے مطابق یہ ہدایات ایکسس ٹو فنانس پلان 2026-28 کے جائزہ اجلاس میں دی گئیں، جہاں متعلقہ شعبوں میں فنانسنگ کی موجودہ سطح اور آئندہ اہداف کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اگست 2026 میں زرعی شعبے کے لیے بینک قرضوں کا حجم 1.268 ٹریلین روپے تھا، جبکہ حکومت نے جون 2028 تک اسے 2 ٹریلین روپے تک پہنچانے کا ہدف رکھا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبہ ملکی معیشت کی بنیاد ہے اور اس کی ترقی کے لیے مالی رسائی بہتر بنانا قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے فعال کردار ادا کرنے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کی بات بھی کی۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے قرضوں کا حجم اگست تک 1.067 ٹریلین روپے بتایا گیا، جسے جون 2028 تک 2 ٹریلین روپے تک لے جانے کا ہدف ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے گزشتہ تین ماہ میں 1,096 ایس ایم ایز کو مالی خواندگی کی تربیت فراہم کی ہے۔
ہاؤسنگ کے شعبے میں حکام نے بتایا کہ ملک بھر میں ایسے پلاٹس کی شناخت کے لیے نظام تیار کیا جا رہا ہے جو رہن کی شرائط پوری کرتے ہوں، اور اسلام آباد کو اس عمل کے پائلٹ منصوبے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ بڑے ہاؤسنگ ڈویلپرز کو اسکیم میں شامل کرنے اور اسے زیادہ مربوط بنانے کے لیے بھی طریقہ کار تیار کیا جائے گا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق اپنا گھر اسکیم کے تحت اب تک 147,504 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احد چیمہ، رانا تنویر حسین، محمد اورنگزیب اور ریاض حسین پیرزادہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر خان، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز، عالمی بینک کے نمائندے اور پاکستانی بینکوں کے سربراہان شریک ہوئے۔
مقرر کردہ اعداد اہداف ہیں، مکمل شدہ قرضوں کی ضمانت نہیں۔ ان کے حصول کا انحصار بینکوں کی قرض دینے کی رفتار، قرض لینے والوں کی اہلیت، معاشی حالات اور متعلقہ اسکیموں کے عملی نفاذ پر ہوگا۔ حکومت کا موجودہ زور اس بات پر ہے کہ مالیاتی نظام میں ان شعبوں کی رسائی بڑھے جنہیں سرمایہ کاری اور کاروباری توسیع کے لیے رسمی قرض کی ضرورت ہے۔




