لاہور: پاکستان اور آسٹریلیا 1998 کے دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں اور آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین کے مطابق یہ عمل دسمبر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پرانے معاہدے کو دونوں معیشتوں کی بدلتی ضروریات کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان اشیا کی دوطرفہ تجارت 2024-25 کے 973 ملین ڈالر سے کم ہو کر 2025-26 میں 672 ملین ڈالر رہ گئی۔ پاکستان کی آسٹریلیا کو برآمدات 285 ملین ڈالر سے کم ہو کر 275 ملین ڈالر ہوئیں، جبکہ آسٹریلیا سے درآمدات 688 ملین ڈالر سے گھٹ کر 397 ملین ڈالر رہیں۔
لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل نے اس کمی کو پلٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر زور دیتے ہوئے دوطرفہ تجارت کو کم از کم 3 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف تجویز کیا۔ پاکستان کی آسٹریلیا کو اہم برآمدات میں ہوم ٹیکسٹائل، ملبوسات، چاول، جراحی آلات اور کھیلوں کا سامان شامل ہیں، جبکہ صنعتی ورک ویئر، حفاظتی دستانے، آٹو پارٹس، انجینئرنگ مصنوعات، چمڑے کی اشیا، مصالحہ جات، گلابی نمک، ماربل اور فرنیچر کو توسیع کے ممکنہ شعبوں کے طور پر پیش کیا گیا۔
چیمبر نے پاکستان آسٹریلیا جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی کا اجلاس جلد بلانے اور ترجیحی تجارتی انتظام پر مذاکرات شروع کرنے کی تجویز بھی دی۔ کاروباری نمائندوں کا مؤقف تھا کہ بعض حریف برآمدی ممالک کو آسٹریلوی منڈی میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے جبکہ پاکستانی برآمد کنندگان کو ایسی سہولت میسر نہیں۔
معدنیات اور کان کنی کو بھی ممکنہ مشترکہ سرمایہ کاری کا اہم شعبہ قرار دیا گیا۔ پاکستان کے معدنی وسائل اور آسٹریلیا کی معدنی تلاش و پروسیسنگ کی مہارت کو جوائنٹ وینچرز کے لیے موزوں امتزاج قرار دیا گیا، جبکہ فنی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور ڈیجیٹل مہارتوں میں تعاون کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔
ٹموتھی کین کے مطابق زراعت پہلے ہی دونوں ممالک کے تعاون کا بڑا شعبہ ہے اور گزشتہ سال آسٹریلیا کی پاکستان کے ساتھ زرعی تجارت تقریباً ایک ارب آسٹریلوی ڈالر رہی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک لاکھ سے زیادہ آسٹریلوی مویشی پاکستان برآمد کیے جا چکے ہیں، جن میں زیادہ تر پنجاب گئے۔ پاکستان کی جانب سے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ کینولا کی منظوری کے بعد آسٹریلیا اس کی برآمد میں بھی دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ پاکستانی وفد آئندہ ماہ دالوں کے شعبے میں مواقع دیکھنے آسٹریلیا جائے گا۔
دسمبر کی مدت مذاکرات مکمل ہونے کی توقع ہے، حتمی معاہدے کی ضمانت نہیں۔ کسی نئے معاہدے کے نفاذ کے لیے دونوں حکومتوں کے قانونی اور پالیسی مراحل مکمل ہونا ضروری ہوں گے۔




