کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے تقریباً 83 ارب روپے کے زیر التوا انکم ٹیکس ریفنڈ دو سے تین ماہ کے اندر جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ پیش رفت ایف بی آر کی ٹیم اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں کے درمیان اجلاس میں سامنے آئی۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی کی کاروباری برادری کے ساتھ ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں ملاقاتوں کی ہدایت کر رکھی ہے۔ اسی سلسلے میں ایف بی آر چیئرمین اور ان کی ٹیم نے ایف پی سی سی آئی کے نمائندوں سے ٹیکس انتظامیہ، برآمدی سہولتوں اور ریفنڈز سے متعلق معاملات پر گفتگو کی۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں کے مطابق اجلاس میں انکم ٹیکس ریفنڈز کا معاملہ تفصیل سے زیر بحث آیا۔ کاروباری نمائندوں نے بتایا کہ مؤخر شدہ ریفنڈز کی ادائیگی کے لیے پہلے ایک سے دو ماہ کی مدت پر بات ہو چکی تھی، جبکہ مجموعی زیر التوا رقم تقریباً 83 ارب روپے بتائی گئی۔ اس پر ایف بی آر چیئرمین نے رقم دو سے تین ماہ کے اندر جاری کرنے کی ہدایت دی۔

اجلاس میں ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کے تحت خام مال کی درآمد اور گرے فیبرک کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام پر بھی بات ہوئی۔ کاروباری نمائندوں کا مؤقف تھا کہ اسکیم کے تحت درآمد کیے جانے والے صنعتی خام مال پر بلند ویلیوایشن رولنگز کی وجہ سے برآمد کنندگان کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق اسکیم میں 10 فیصد ویلیو ایڈیشن کی شرط تیار شدہ برآمدی مصنوعات سے متعلق ہے، نہ کہ صنعتی خام مال کی درآمد سے۔

ریفنڈز کی بروقت ادائیگی برآمدی اور صنعتی اداروں کے نقد بہاؤ کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ طویل تاخیر سے کاروباری سرمائے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم اجلاس میں سامنے آنے والی دو سے تین ماہ کی مدت ایک انتظامی ہدایت ہے؛ اسے ہر انفرادی دعوے کی خودکار منظوری نہیں سمجھا جا سکتا۔ ریفنڈ کی ادائیگی متعلقہ ٹیکس ریکارڈ، قانونی تقاضوں اور ایف بی آر کی جانچ کے تابع رہتی ہے۔

رپورٹ میں 83 ارب روپے کی رقم اور اجلاس کی تفصیلات ایف پی سی سی آئی کے عہدیدار سے منسوب کی گئی ہیں۔ ایف بی آر کی جانب سے اس رقم کے مکمل شیڈول یا ہر کیس کی علیحدہ ادائیگی کی تاریخ کی تفصیل رپورٹ میں نہیں دی گئی۔ کاروباری برادری کے لیے اہم پیش رفت یہ ہے کہ ٹیکس انتظامیہ نے زیر التوا ریفنڈز کو محدود مدت میں نمٹانے کی سمت واضح کی ہے۔