اسلام آباد میں 9 ستمبر 2026 کو وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے ایکسیس ٹو فنانس اسٹیئرنگ کمیٹی کے چوتھے اجلاس کی صدارت کی۔ وزارت خزانہ کے مطابق اجلاس میں ترجیحی شعبوں کے لیے سستی اور جامع مالیاتی رسائی بڑھانے کے اقدامات کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
سرکاری بیان میں ایس ایم ایز، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، برآمدات، قابل تجدید توانائی اور ہاؤسنگ کو اہم شعبوں کے طور پر شامل کیا گیا۔ ان شعبوں میں مناسب مالیاتی سہولت کی دستیابی کاروباری توسیع، سرمایہ کاری اور روزگار کے لیے اہم ہو سکتی ہے، تاہم مالیاتی رسائی بڑھانے کے لیے بینکوں، ضابطہ کار اداروں اور حکومتی منصوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہوتا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق کمیٹی کا مقصد پالیسی اقدامات کی پیش رفت کا جائزہ لے کر عملدرآمد کو بہتر بنانا ہے۔ وزیر خزانہ نے قابل پیمائش نتائج، مؤثر رابطہ کاری اور بروقت عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
اسٹیئرنگ کمیٹی ترجیحی شعبوں میں مالیاتی شمولیت کے لیے حکمت عملی کی نگرانی کرتی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس عمل میں چھوٹے اور درمیانے کاروباروں سمیت ان شعبوں تک مالی وسائل کی رسائی کو بہتر بنانے پر توجہ ہے۔
موجودہ اجلاس کسی ایک نئے قرض پروگرام کے اجرا کا اعلان نہیں بلکہ جاری اقدامات کی نگرانی اور پیش رفت کے جائزے سے متعلق تھا۔ اس لیے حقیقی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ مالیاتی ادارے، متعلقہ حکومتی محکمے اور دیگر فریق ان اہداف کو کس رفتار سے عملی شکل دیتے ہیں۔ تصدیق شدہ طور پر 9 ستمبر کو کمیٹی نے ترجیحی اقتصادی شعبوں میں مالیاتی رسائی کے اقدامات کا جائزہ لیا۔




