ایشیائی ترقیاتی بینک، اے ڈی بی، نے پاکستان کی ریونیو انتظامیہ کو جدید اور ڈیجیٹل بنانے کے لیے مزید 200 ملین ڈالر کی مجوزہ فنانسنگ پر کام کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اے ڈی بی کے نائب صدر برائے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا ینگ منگ یانگ نے اسلام آباد میں ٹیکس اور مالیاتی پائیداری سے متعلق مکالمے میں کہا کہ منصوبہ 2026 کے دوران بینک کے بورڈ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

اس مرحلے پر 200 ملین ڈالر کو منظور شدہ یا جاری شدہ قرض نہیں سمجھا جا سکتا۔ بورڈ کی منظوری، پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان قانونی دستاویزات، شرائط پوری کرنے اور effectiveness کے مراحل کے بعد ہی رقم دستیاب یا خرچ ہو سکے گی۔ اے ڈی بی عہدیدار کے اعلان نے مجوزہ حجم اور اصلاحاتی سمت واضح کی ہے، مگر حتمی financing terms، مدت، سود یا concessional structure اور قسطوں کا شیڈول ابھی جاری نہیں کیا گیا۔

مجوزہ initiative کو Transforming and Digitalising Revenue Administration Project کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ دستیاب تفصیل کے مطابق اس میں وفاقی بورڈ آف ریونیو کے ٹیکس اور کسٹمز سسٹمز کی جدید کاری، مربوط ڈیٹا کے استعمال، advanced analytics، مصنوعی ذہانت سے معاون compliance tools، سائبر سکیورٹی اور ادارہ جاتی صلاحیت کی بہتری شامل ہوگی۔ مقصد taxpayer services بہتر کرنا، risk-based نگرانی بڑھانا اور صوابدیدی مداخلت کم کرنا بتایا گیا ہے۔

ینگ منگ یانگ نے کہا کہ پاکستان نے macroeconomic stability بحال کرنے میں پیش رفت کی ہے، لیکن اگلے اصلاحاتی مرحلے کے لیے ملکی وسائل کو مؤثر، منصفانہ اور پائیدار انداز میں متحرک کرنا ضروری ہوگا۔ انہوں نے محدود ٹیکس بنیاد، بڑی غیر رسمی معیشت اور کم compliance کو بنیادی چیلنج قرار دیا اور exemptions کم کرنے اور زیادہ شعبوں کو منصفانہ طور پر دائرۂ ٹیکس میں لانے پر زور دیا۔ یہ اے ڈی بی کا پالیسی جائزہ ہے؛ کسی مخصوص نئی ٹیکس شرح یا رعایت ختم کرنے کا قانونی حکم نہیں۔

وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے اسی مکالمے میں کہا کہ حکومت ٹیکس بنیاد وسیع کرنے، پہلے سے تعمیل کرنے والے شہریوں اور کاروباروں پر نسبتاً بوجھ کم کرنے اور نجی شعبے کے ساتھ رابطے کے ذریعے نظام بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے digitalisation کو efficiency، transparency اور taxpayer experience بہتر کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔ ان حکومتی مقاصد کے نتائج آئندہ وصولیوں، audit outcomes اور صارف خدمات کے قابلِ پیمائش اعداد سے جانچے جائیں گے۔

ڈیجیٹل نظام خود بخود اضافی ریونیو کی ضمانت نہیں دیتا۔ مختلف سرکاری databases کی درستگی، قانونی data sharing، شناخت میں غلط matching، cyber threats، اپیل کے حقوق، انسانی نگرانی اور الگورتھم کی جواب دہی ایسے عملی مسائل ہیں جنہیں منصوبے کے design میں حل کرنا ہوگا۔ AI-enabled compliance کا مطلب بھی یہ نہیں کہ مشین کا flag بذاتِ خود ٹیکس جرم ثابت کر دے؛ assessment اور enforcement متعلقہ قانون، ثبوت اور taxpayer کے جواب کے بعد ہوگی۔

ٹیکس اور کسٹمز data کو یکجا کرنے سے high-risk transactions کی شناخت اور کم خطرے والے taxpayers کے لیے آسان عمل ممکن ہو سکتا ہے۔ مگر معلومات کی رازداری، access controls، audit trails اور breach response مضبوط نہ ہوں تو بڑا مربوط نظام نئے خطرات بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اسی لیے مجوزہ فنانسنگ میں سائبر سکیورٹی اور institutional development شامل ہونا اہم ہے۔

اے ڈی بی نے زیادہ ملکی ریونیو کو صرف fiscal target نہیں بلکہ تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات کے لیے حکومتی گنجائش بڑھانے اور قرض پر انحصار کم کرنے سے جوڑا۔ تاہم 200 ملین ڈالر خود بھی بیرونی فنانسنگ ہوگی، اس لیے اس کی لاگت اور واپسی کی شرائط حتمی منظوری کے بعد اہم ہوں گی۔

تازہ پیش رفت کا درست خلاصہ یہ ہے کہ اے ڈی بی نے 200 ملین ڈالر کے اضافی ڈیجیٹل ریونیو منصوبے کی سمت اور ممکنہ اجزا بیان کیے ہیں اور اسے 2026 میں بورڈ کے سامنے لے جانے کی توقع ظاہر کی ہے۔ حتمی منظوری، قرض معاہدہ، procurement، implementation milestones اور نتائج کے اشاریے ابھی آئندہ مراحل ہیں۔