پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، پی اے سی، نے سوئی سدرن گیس کمپنی سے 80 ارب روپے کے unaccounted-for gas، یو ایف جی، نقصانات، 16 ارب روپے کے مبینہ طور پر غیر وصول شدہ Gas Infrastructure Development Cess اور دوسرے واجبات پر تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ سید نوید قمر کی زیرِ صدارت 3 ستمبر 2026 کے اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کے مالی سال 2024-25 سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ SSGC کے یو ایف جی نقصانات سے متعلق audit objection کی رقم 80 ارب روپے ہے۔ یو ایف جی وہ گیس ہے جو نظام میں داخل ہونے کے بعد بل شدہ فروخت میں ظاہر نہیں ہوتی؛ اس میں پائپ لائن leakage، پیمائش کی غلطی، operational عوامل اور چوری سمیت مختلف اسباب شامل ہو سکتے ہیں۔ audit objection جواب طلبی اور مالی نگرانی کا مرحلہ ہے، حتمی عدالتی finding یا کسی فرد کا ثابت شدہ جرم نہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، اوگرا، نے قابلِ قبول یو ایف جی کے اہداف مقرر کر رکھے ہیں۔ ارکان نے اوگرا کے نمائندے کی عدم موجودگی پر سوال اٹھایا اور خصوصاً بلوچستان میں گیس supply اور losses کی تفصیل مانگی۔ پیٹرولیم ڈویژن کے حکام کے مطابق صوبے کو روزانہ تقریباً 120 ملین مکعب فٹ گیس فراہم ہو رہی تھی اور وہاں نقصان کی شرح 36 فیصد سے زیادہ رہی، اگرچہ کمی کی کوششوں سے کچھ بہتری آنے کا دعویٰ کیا گیا۔
کمیٹی نے audit figures اور محکماتی اعداد میں موجود فرق دور کرنے کی ہدایت دی۔ یو ایف جی اعتراض نمٹانے کے بجائے مؤخر کر دیا گیا اور پیٹرولیم ڈویژن سے کہا گیا کہ ریکارڈ reconcile کرکے آڈیٹرز کو مطمئن کرے۔ اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ 80 ارب روپے کی رقم ختم یا حتمی طور پر تسلیم ہو گئی؛ اگلی سماعت میں supporting calculations، اوگرا targets اور کمپنی کا جواب دوبارہ زیرِ غور آ سکتا ہے۔
پی اے سی نے 16 ارب روپے کے GIDC کی عدم وصولی سے متعلق الگ آڈٹ اعتراض بھی دیکھا۔ audit حکام کا مؤقف تھا کہ اعتراض اٹھائے جانے کے وقت اس رقم پر کوئی stay order موجود نہیں تھا۔ SSGC حکام نے کہا کہ ایسے صارفین سے ادائیگیاں وصول کی جا رہی ہیں جو litigation میں شامل نہیں۔ ارکان نے سپریم کورٹ کے collection سے متعلق حکم پر عمل درآمد کے لیے اٹھائے گئے قانونی اقدامات کی تفصیل مانگی، اور یہ معاملہ بھی مزید وضاحت تک مؤخر کر دیا۔
اجلاس میں منقطع کنکشن رکھنے والے defaulters سے واجبات کی recovery پر بھی سوالات ہوئے۔ SSGC نے کمیٹی کو بتایا کہ 2.3 ارب روپے بعد میں وصول کیے گئے۔ سینیٹر افنان اللہ خان نے K-Electric کو کمپنی کا سب سے بڑا defaulter قرار دیا، جبکہ SSGC حکام کے مطابق بجلی کمپنی کے ذمے 2012 کے ابتدائی عرصے سے تقریباً 30 ارب روپے بقایا ہیں۔ یہ رقم SSGC کا کمیٹی کو دیا گیا مؤقف ہے؛ K-Electric کا تفصیلی جواب زیرِ حوالہ رپورٹس میں شامل نہیں تھا۔
آڈٹ حکام نے چھ مبینہ جعلی میٹروں کے ذریعے 123.6 ملین روپے مالیت کی گیس چوری کا اعتراض بھی پیش کیا۔ اجلاس کی رپورٹ میں کسی نامزد فرد کی conviction یا مکمل فوجداری نتیجہ درج نہیں، اس لیے اسے آڈٹ میں رپورٹ شدہ مبینہ theft کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔ ذمہ داری کا تعین تفتیش، ثبوت اور متعلقہ قانونی کارروائی سے ہوگا۔
یو ایف جی کا مالی اثر صرف کمپنی کے حسابات تک محدود نہیں رہتا؛ ریگولیٹری طور پر تسلیم شدہ اور غیر تسلیم شدہ losses، tariff determinations اور گیس شعبے کے circular debt پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ تاہم ہر روپے کا صارف tariff میں منتقل ہونا الگ اوگرا فیصلے اور قانونی قواعد سے مشروط ہے۔
تازہ اجلاس کا حتمی نتیجہ کسی audit objection کا تصفیہ نہیں، بلکہ پی اے سی کی جانب سے SSGC، پیٹرولیم ڈویژن اور متعلقہ ریگولیٹری ریکارڈ پر مزید وضاحت طلب کرنا ہے۔ اگلی پیش رفت میں reconciled figures، اوگرا کی شرکت، GIDC recovery کے قانونی اقدامات اور واجبات و جعلی میٹر معاملات کی دستاویزی صورتحال اہم ہوگی۔




