پاکستان اور آسٹریلیا نے زرعی تحقیق، موسمیاتی لچک، بائیو سکیورٹی، آبی انتظام اور زرعی تجارت میں تعاون مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت 3 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی آسٹریلین سینٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرل ریسرچ، ACIAR، کی جنرل منیجر پارٹنرشپس ڈاکٹر سوزی نیومین اور پاکستان میں آسٹریلوی ہائی کمشنر سے ملاقات میں سامنے آئی۔
سرکاری بیان کے مطابق اجلاس کا ایک اہم موضوع پاکستان کی زرعی اور باغبانی مصنوعات کے لیے آسٹریلوی منڈی تک رسائی بہتر بنانا تھا۔ فریقین نے فائٹو سینیٹری تقاضوں، plant-health systems اور متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل تکنیکی رابطے پر بات کی۔ تاہم کسی مخصوص پاکستانی پھل، سبزی یا دوسری پیداوار کے لیے نیا import permit، quota یا حتمی market-access approval جاری ہونے کا اعلان نہیں ہوا۔ عملی برآمدی رسائی آسٹریلیا کے بائیو سکیورٹی assessment، pest-risk analysis اور ہر جنس کے لیے مقرر شرائط پوری کرنے سے مشروط رہے گی۔
رانا تنویر حسین نے زرعی بائیو سکیورٹی اور پودوں کی صحت کو توسیع یافتہ تعاون کے نمایاں شعبے قرار دیا۔ مجوزہ تکنیکی کام میں کیڑوں اور بیماریوں کی شناخت، molecular diagnostics، DNA barcoding، pest surveillance، risk analysis، quarantine management اور جدید ڈیجیٹل plant-health systems شامل ہیں۔ یہ شعبے برآمدی certification کے ساتھ مقامی فصلوں کو invasive pests اور بیماریوں سے بچانے میں بھی اہم ہوتے ہیں۔
دونوں جانب نے موسم اور آب و ہوا پر مبنی کیڑوں کی پیش گوئی، GIS surveillance، early-warning systems، invasive pests کے انتظام اور ٹڈی دل کی تیاری میں تعاون کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔ ماحول دوست pest-control طریقوں کا ذکر کیا گیا، مگر کسی نئے مالی پیکیج، عمل درآمدی مدت یا مشترکہ لیبارٹری کی فوری منظوری سامنے نہیں آئی۔ اگلا مرحلہ متعلقہ اداروں کی طرف سے مخصوص demand-driven منصوبوں کی نشاندہی اور ان کے نتائج و وسائل طے کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ زرعی تحقیق کو قابلِ توسیع اور کسانوں کے لیے عملی حل میں بدلا جائے۔ انہوں نے موسمیاتی لچکدار زراعت، پانی کے بہتر استعمال، فصلوں کی بہتری، horticulture، post-harvest management اور value-chain development کو ترجیحی شعبے بتایا۔ آسٹریلوی فریق نے مقامی ضروریات پر مبنی تحقیق، صلاحیت سازی اور نتائج کو کھیت تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ACIAR کے ذریعے زرعی تحقیق کا تعاون 1984 سے جاری ہے۔ اجلاس میں جاری ’’ایک ساتھ‘‘ پروگرام کا جائزہ لیا گیا، جس کے تحت water-use efficiency، climate-resilient irrigation، سیم و تھور اور waterlogging، گندم و دالوں کی بہتری، باغبانی اور بعد از برداشت نقصانات جیسے موضوعات زیرِ کام ہیں۔ ان شعبوں میں تحقیق کے نتائج مختلف علاقوں، فصلوں اور کسان گروہوں میں یکساں نہیں ہوتے، اس لیے scalability اور مقامی تجربات اہم ہوں گے۔
ACIAR کے مالی تعاون سے جنوبی سندھ طاس میں Water Resilience and Livelihood Improvement منصوبہ بھی زیرِ بحث آیا۔ رانا تنویر حسین نے پاکستانی تحقیقی اداروں کی زیادہ شرکت پر زور دیا تاکہ تکنیکی عمل درآمد، قومی ownership اور طویل مدتی sustainability بہتر ہو۔ بیان میں منصوبے کی تازہ مالی مالیت، مکمل شدہ اہداف یا نئی توسیع کی الگ منظوری نہیں بتائی گئی۔
فریقین نے محققین کے تبادلوں، capacity-building programmes، تکنیکی expertise اور حکومتی و تحقیقی اداروں کے باہمی رابطے کو بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس پیش رفت کا تصدیق شدہ دائرہ پالیسی و تکنیکی اتفاقِ رائے اور نئے تحقیقی مواقع کی شناخت ہے۔ زرعی برآمدات میں حقیقی اضافہ تب جانچا جا سکے گا جب مخصوص مصنوعات کے لیے بائیو سکیورٹی تقاضے طے ہوں، exporters تعمیل کریں، shipment approvals ملیں اور تجارت کے اعداد میں قابلِ پیمائش تبدیلی آئے۔




