اسلام آباد: ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے پاکستان کی حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ اس کی تکنیکی ٹیم مین لائن ون (ایم ایل ون) ریلوے منصوبے کا ڈیزائن اکتوبر 2026 تک حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہی ہے۔ منصوبے کے ڈیزائن کی تکمیل کو تقریباً 3 ارب ڈالر کے ریلوے اپ گریڈ پروگرام کے اگلے مراحل کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اے ڈی بی کے نمائندوں نے وفاقی وزیر اقتصادی امور سینیٹر احد چیمہ کے ساتھ اجلاس میں بتایا کہ ڈیزائن اکتوبر کے اندر مکمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ ڈیزائن حتمی ہونے کے بعد بینک حکومت کے ساتھ قریبی رابطے میں خریداری اور بعد کے عمل کو آگے بڑھائے گا۔
احد چیمہ نے اے ڈی بی اور اس کی تکنیکی ٹیموں کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف ایم ایل ون منصوبے کو ترجیح دیتے ہیں اور حکومت چاہتی ہے کہ منصوبہ جلد عملی مرحلے کی طرف بڑھے۔ وزیر اقتصادی امور نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت اپنی جانب سے مطلوبہ تقاضے بروقت مکمل کرنے اور ضروری سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
اجلاس میں عمل درآمد کے شیڈول کا مسلسل جائزہ لینے پر بھی زور دیا گیا تاکہ تکنیکی، قانونی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کی مکمل پابندی کرتے ہوئے جہاں ممکن ہو وقت بچایا جا سکے۔ اے ڈی بی کے وفد نے حکومت کے عزم کو سراہا اور کہا کہ بعد کی پراسیسنگ اور منظوریوں، جن میں اے ڈی بی بورڈ سے متعلق امور بھی شامل ہیں، کی ضروریات حکومت کے ساتھ بروقت شیئر کی جائیں گی۔
اجلاس میں اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین، ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر، سیکریٹری ریلوے مظہر علی شاہ، سیکریٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم، وزارت ریلوے کے ڈائریکٹر جنرل پلاننگ اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
ایم ایل ون پاکستان کے ریلوے نیٹ ورک کی جدید کاری کے بڑے منصوبوں میں شامل ہے۔ موجودہ پیش رفت کا مطلب ابھی تعمیراتی کام کے مکمل آغاز کی حتمی منظوری نہیں، بلکہ ڈیزائن اور ادارہ جاتی تیاری کے ایک اہم مرحلے کی تکمیل کا ہدف ہے۔ خریداری، مالیاتی پراسیسنگ، بورڈ کی منظوری اور دیگر قانونی و تکنیکی تقاضے بعد کے مراحل میں اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔ اکتوبر کی مقررہ مدت پوری ہونے کی صورت میں منصوبہ ان اگلے مراحل کی طرف بڑھ سکے گا۔




