اسلام آباد: ایشین ڈویلپمنٹ بینک، اے ڈی بی، نے پاکستان کے ٹیکس وصولی نظام کی تبدیلی میں مالی اور تکنیکی معاونت کے ساتھ علمی تجربات اور مہارت فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ یہ یقین دہانی اے ڈی بی کے زیر اہتمام ”مالیاتی پائیداری کے لیے ٹیکس کاری“ کے موضوع پر اعلیٰ سطحی مکالمے میں سامنے آئی، جہاں حکومتی اور بینک حکام نے اندرون ملک محصولات بڑھانے اور ٹیکس انتظامیہ کی کارکردگی بہتر بنانے پر گفتگو کی۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیکس کی بنیاد وسیع کرنے، پہلے سے قانون کی پابندی کرنے والے ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کرنے اور وصولی کے نظام کو زیادہ مؤثر بنانے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس عمل میں ڈیجیٹلائزیشن اور نجی شعبے کے ساتھ زیادہ رابطہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقصد صرف موجودہ ٹیکس دہندگان سے زیادہ رقم لینا نہیں بلکہ ایسے افراد اور کاروباری سرگرمیوں کو نظام میں لانا بھی ہے جو قابل ٹیکس ہونے کے باوجود دائرۂ کار سے باہر ہیں۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ وزیراعظم وفاقی بورڈ آف ریونیو، ایف بی آر، کی تبدیلی کے عمل پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس کر رہے ہیں۔ ان جائزوں میں ادارے کے طویل مدتی اصلاحاتی اہداف کے ساتھ روزمرہ عملی معاملات بھی زیر بحث آتے ہیں۔ تاہم مکالمے میں کسی نئے ٹیکس، مخصوص شرح یا فوری قانونی ترمیم کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے زیر بحث اقدامات کو اصلاحاتی ترجیحات اور ادارہ جاتی عمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اے ڈی بی کے نائب صدر برائے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا ینگ منگ یانگ نے کہا کہ ٹیکس اور اندرون ملک وسائل کی مؤثر تحصیل پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق مضبوط محصولات کا نظام حکومتوں کو انسانی ترقی، بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی و موسمیاتی لچک میں سرمایہ کاری کی گنجائش دیتا ہے اور قرض پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینک پاکستان کے محصولات کے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے مالی معاونت، تکنیکی مدد اور علم و تجربے کے تبادلے کے لیے پُرعزم ہے۔
اے ڈی بی کے بیان کردہ تعاون کی نوعیت وسیع ہے، لیکن اجلاس کی دستیاب تفصیلات میں کسی مخصوص قرض، گرانٹ، پروگرام کی رقم، منظوری کی تاریخ یا عملدرآمد کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اسے کسی منظور شدہ مالی پیکیج کے بجائے آئندہ تعاون کی پالیسی سطح کی یقین دہانی سمجھنا درست ہو گا۔ کسی بھی باضابطہ منصوبے کے لیے الگ دستاویزات، شرائط اور متعلقہ حکام کی منظوری درکار ہو سکتی ہے۔
ٹیکس انتظامیہ کی ڈیجیٹل تبدیلی سے متعلق حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹیکنالوجی معلومات کے بہتر استعمال، عمل میں تیزی اور وصولی کی کارکردگی بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم مکالمے میں اس حوالے سے کوئی نئی قابل پیمائش کارکردگی رپورٹ، مقررہ ہدف یا مکمل ہونے کی تاریخ جاری نہیں کی گئی۔ اسی طرح نجی شعبے کی شرکت کی عملی صورت بھی بعد کے منصوبوں اور اعلانات سے واضح ہو گی۔
موجودہ پیش رفت کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ حکومت نے ٹیکس بنیاد، منصفانہ بوجھ اور ایف بی آر اصلاحات کو دوبارہ مرکزی ترجیح کے طور پر پیش کیا، جبکہ اے ڈی بی نے ان مقاصد کے لیے مالی، فنی اور علمی تعاون جاری رکھنے کا وعدہ کیا۔ اصلاحات کی کامیابی کا اصل پیمانہ آئندہ رسمی پروگراموں، ٹیکس نیٹ میں حقیقی اضافے، وصولی کی لاگت اور وقت میں کمی، اور باقاعدہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ کے عملی اثرات سے سامنے آئے گا۔




