لاہور: وفاقی حکومت اور جماعتِ اسلامی نے پٹرولیم لیوی اور ایندھن کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کے لیے تکنیکی سطح پر مذاکرات شروع کرنے اور ماہرین کی الگ الگ ٹیمیں تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔ فیصلہ 3 ستمبر کو منصورہ لاہور میں حکومتی وفد اور جماعتِ اسلامی کی قیادت کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ ابھی کسی ٹیکس یا قیمت میں کمی منظور نہیں ہوئی؛ دونوں فریقوں نے پہلے قابلِ عمل طریقۂ کار تیار کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
حکومتی وفد میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ اور پنجاب کے وزیر خواجہ سلمان رفیق شامل تھے۔ جماعتِ اسلامی کی جانب سے امیر حافظ نعیم الرحمن نے وفد کی قیادت کی۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ تکنیکی مذاکرات پیر سے شروع ہوں گے اور دونوں جانب کے ماہرین پٹرولیم لیوی، عالمی تیل کی لاگت، حکومتی آمدن اور صارفین کو ریلیف دینے کے ممکنہ طریقوں کا جائزہ لیں گے۔
احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے جماعتِ اسلامی کو اپنی تکنیکی ٹیم نامزد کرنے کی دعوت دی ہے اور امید ظاہر کی کہ ماہرین تقریباً دو ہفتوں میں قابلِ عمل حل تجویز کر سکیں گے۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حکومتی وفد منصورہ گیا اور حکومت خود بھی چاہتی ہے کہ عوام پر ایندھن کی قیمتوں کا بوجھ کم ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی تجویز کی منظوری اس کے مالی اور عملی قابلِ نفاذ ہونے سے مشروط ہوگی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت جماعتِ اسلامی کی ایسی تجاویز پر غور کے لیے تیار ہے جن سے صارفین کو ریلیف مل سکے اور قومی مالی ضروریات بھی متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے موجودہ مہنگائی، عالمی تیل کی قیمتوں اور امریکا ایران جنگ سے پیدا ہونے والے دباؤ کا حوالہ دیا۔ ان کے بیانات حکومتی مذاکراتی مؤقف کی نمائندگی کرتے ہیں؛ حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کے متعلقہ مالی و انتظامی عمل کے بعد ہی ہوگا۔
جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ان کی جماعت مذاکرات کے ساتھ پٹرولیم قیمتوں کے خلاف احتجاجی دھرنے بھی جاری رکھے گی۔ جماعت نے اپنی تکنیکی ٹیم قائم کر دی ہے، جس کی قیادت لیاقت بلوچ کریں گے اور اس میں نوید علی بیگ، ضیاء الدین انصاری، نصراللہ رندھاوا اور فیصل شاہ شامل ہیں۔ جماعتِ اسلامی نے پٹرولیم لیوی میں کمی کے علاوہ بجلی کے نجی پیداواری معاہدوں، صلاحیتی ادائیگیوں اور سستے نان سے متعلق تجاویز بھی پیش کی ہیں۔
پٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کی جانب سے فی لیٹر ایندھن پر عائد محصول ہے اور اس میں تبدیلی کا براہِ راست تعلق سرکاری آمدن اور صارفین کی آخری قیمت سے ہو سکتا ہے۔ تاہم پٹرول اور ڈیزل کی قیمت صرف لیوی سے طے نہیں ہوتی؛ درآمدی قیمت، روپے کی قدر، مال برداری، ڈیلر و کمپنی مارجن اور دیگر مالی اجزا بھی حساب میں شامل ہوتے ہیں۔ اسی لیے لیوی میں ممکنہ کمی کا مکمل اثر تکنیکی حساب اور حکومتی فیصلے کے بعد ہی واضح ہوگا۔
مذاکرات کے اگلے مرحلے میں دونوں کمیٹیوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ مجوزہ ریلیف کی مالی لاگت کتنی ہے، سرکاری محصول میں ممکنہ کمی کہاں سے پوری ہوگی اور تبدیلی کس مدت کے لیے نافذ کی جا سکتی ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت کمیٹیوں کی تشکیل اور مذاکرات کے شیڈول تک محدود ہے؛ ایندھن کی نئی قیمت یا لیوی کی کم شرح کا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔




