اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سرحد پار تجارت کے مراحل کو آسان بنانے اور غیر محصولاتی رکاوٹوں کے حل کے لیے ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ بورڈ کی صدارت وزیراعظم خود کریں گے اور اسے درآمد، برآمد، بندرگاہی کلیئرنس اور تجارتی سپلائی چین سے متعلق مختلف سرکاری اداروں کے درمیان فیصلوں اور رابطے کا مرکزی فورم بنانے کا منصوبہ ہے۔
یہ فیصلہ 3 ستمبر کو اسلام آباد میں تجارت میں سہولت سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مجوزہ بورڈ تجارت بڑھانے کے لیے روڈمیپ تیار کرے گا، ٹریڈ فیسلیٹیشن انڈیکس بنائے گا اور اصلاحات کی پیش رفت ناپنے کے لیے نگرانی کا طریقۂ کار وضع کرے گا۔ منظوری کے باوجود بورڈ کی مکمل رکنیت، قواعدِ کار، اجلاسوں کا شیڈول اور انڈیکس کی پیمائش ابھی متعلقہ سرکاری عمل سے طے ہونا باقی ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ملکی بندرگاہوں کی گنجائش بڑھانے پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے اور مختلف موضوعات کے لیے ورکنگ گروپس قائم کرنے کی ہدایت کی۔ ان گروپس کی توجہ پورٹ صلاحیت، محکموں کے درمیان رابطے، ریگولیٹری تقاضوں پر عمل، جہاز پہنچنے سے پہلے سامان کی دستاویزی کلیئرنس اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کی عالمی تجارت میں شرکت بڑھانے پر ہوگی۔
اجلاس میں درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے نقل و حمل، کسٹمز کلیئرنس اور دیگر بندرگاہی طریقۂ کار سادہ بنانے پر زور دیا گیا۔ وزیراعظم نے کاروباری برادری کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی سامان کے غیر ضروری انتظار اور انتظامی تاخیر کو کم کیا جائے۔ تاہم کسی مخصوص کلیئرنس مدت، فیس میں نئی کمی یا بندرگاہی توسیع کے مالی حجم کا اعلان اس اجلاس میں نہیں کیا گیا۔
حکام نے بریفنگ میں دعویٰ کیا کہ جاری اصلاحات سے بندرگاہی چارجز کم ہوئے اور بندرگاہوں کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس دعوے کی تفصیلی بندرگاہ وار شرح، بنیادی مدت اور آزاد تقابلی اعداد رپورٹ میں فراہم نہیں کیے گئے، اس لیے اسے سرکاری بریفنگ کے مؤقف کے طور پر سمجھا جائے گا۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ جہاز کی آمد سے پہلے گڈز ڈیکلریشن جمع کرانے کی سہولت وسیع کی جا رہی ہے، جس کا مقصد سامان کی کلیئرنس تیز کرنا ہے۔
پری ارائیول کلیئرنس کے تحت ضروری معلومات اور دستاویزات جہاز بندرگاہ پہنچنے سے پہلے جمع اور جانچی جا سکتی ہیں۔ مؤثر نفاذ کی صورت میں اس سے کنٹینر کے قیام، گودام اور تاخیر کی بعض لاگت کم ہو سکتی ہے، مگر نتیجہ کسٹمز کے ڈیجیٹل نظام، رسک مینجمنٹ، دیگر محکموں کے اجازت ناموں اور کاروباری اداروں کی درست دستاویزات پر منحصر ہوگا۔
اجلاس میں وفاقی وزرا رانا تنویر حسین، جام کمال خان، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، جنید انوار چوہدری، مشیر ہارون اختر خان، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ کئی وزارتوں کی موجودگی اس لیے اہم ہے کہ تجارتی سہولت صرف وزارتِ تجارت یا کسٹمز کا معاملہ نہیں، بلکہ بندرگاہ، خزانہ، خوراک، صنعت، نقل و حمل اور ریگولیٹری اداروں کے مشترکہ عمل سے جڑی ہے۔
ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری ایک ادارہ جاتی آغاز ہے۔ اس کی کامیابی کا قابلِ پیمائش ثبوت آئندہ روڈمیپ، مقررہ اہداف، کلیئرنس کے حقیقی وقت، کاروباری لاگت، چھوٹے اداروں کی شرکت اور درآمد و برآمد کے عمل میں آنے والی عملی تبدیلیوں سے ملے گا۔




