ارومچی: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت میں تعاون بڑھانے کے لیے ایس سی او ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی اینڈ کمپیوٹ کوریڈور قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے یہ تجویز چین کے شہر ارومچی میں ایس سی او ڈیجیٹل اکانومی فورم 2026 کے دوران وزارتی سطح کے بند کمرہ اجلاس سے خطاب میں دی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق مجوزہ کوریڈور میں سرحد پار فائبر رابطوں کو مضبوط بنانے، زیادہ پائیدار نیٹ ورکس، ڈیٹا سینٹرز، سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی اور باہم مطابقت رکھنے والے کلاؤڈ و کمپیوٹنگ وسائل پر توجہ دی جائے گی۔ احسن اقبال نے کہا کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا فائدہ صرف حکومتوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ جامعات، اسٹارٹ اپس، چھوٹے اور درمیانے کاروبار، خواتین، نوجوانوں اور دور دراز آبادیوں تک بھی پہنچنا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے پاکستان کی قومی ترقیاتی حکمت عملی میں ڈیجیٹل تبدیلی کو مرکزی حیثیت دینے کا ذکر کرتے ہوئے ای پاکستان کو اڑان پاکستان کے اہم ستونوں میں شمار کیا۔ انہوں نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اور قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کو ڈیجیٹل عوامی خدمات، ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی اور ذمہ دار اے آئی کے لیے اہم اقدامات قرار دیا۔

انہوں نے چین کے ساتھ پاکستان کے موجودہ تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے سی پیک کے تحت انفارمیشن ٹیکنالوجی و صنعت کی مشترکہ ورکنگ گروپ اور چائنا ایس سی او پاکستان آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایپلیکیشن کوآپریشن سینٹر کو مزید علاقائی تعاون کے ممکنہ پلیٹ فارم قرار دیا۔ ان کے مطابق اے آئی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی، تحقیق اور مہارتوں کی ترقی میں ان انتظامات کو وسعت دی جا سکتی ہے۔

احسن اقبال نے ایس سی او کے لیے سوورین اے آئی انفراسٹرکچر اینڈ گورننس فریم ورک کی بھی حمایت کی، جس کا مقصد قومی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا اور ذمہ دار مصنوعی ذہانت کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے رازداری، سائبر سکیورٹی، جواب دہی، شفاف ڈیٹا رسائی اور قومی خودمختاری کے احترام کو ڈیجیٹل تعاون کے لیے بنیادی اصول قرار دیا۔

پاکستان ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت سنبھال رہا ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان باقاعدہ وزارتی مکالمے، تکنیکی رابطہ کاری اور نتیجہ خیز منصوبوں کے ذریعے ڈیجیٹل اکانومی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کی حمایت کرتا ہے۔ مجوزہ اقدامات ابھی تعاون کی تجاویز ہیں اور ان پر عملی پیش رفت کے لیے رکن ممالک کی منظوری، تفصیلی فریم ورک اور مشترکہ عمل درآمد درکار ہوگا۔