اردو ہیڈلائنز ڈیسک
مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے مسلم لیگ ن کے چوہدری طارق فاروق کو نیا اسپیکر اور محمد احمد رضا قادری کو ڈپٹی اسپیکر منتخب کرلیا ہے۔ دونوں عہدوں کے لیے خفیہ رائے شماری منگل 25 اگست کو ہوئی، جس کے بعد منتخب عہدیداروں نے حلف اٹھایا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق اجلاس دوپہر ڈھائی بجے سبکدوش ہونے والے اسپیکر چوہدری لطیف اکبر کی صدارت میں شروع ہوا۔ حالیہ عام انتخابات میں 46 ارکان اسمبلی منتخب ہو کر حلف اٹھا چکے تھے، جن میں مسلم لیگ ن اور اس کے اتحادی کے 32 جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے 14 ارکان شامل تھے۔ تمام 46 ارکان نے انتخابی عمل میں حصہ لیا۔
اسپیکر کے عہدے کے لیے مسلم لیگ ن نے ایل اے 7 بھمبر سٹی سے منتخب چوہدری طارق فاروق کو امیدوار بنایا جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے چوہدری قاسم مجید میدان میں تھے۔ رائے شماری میں طارق فاروق کو 32 اور قاسم مجید کو 13 ووٹ ملے، جبکہ پیپلز پارٹی کا ایک ووٹ مسترد قرار پایا۔ انتخابی نتیجے کے بعد سابق اسپیکر لطیف اکبر نے اپنے جانشین سے حلف لیا۔
ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کی کارروائی نو منتخب اسپیکر نے چلائی۔ مسلم لیگ ن کے محمد احمد رضا قادری نے 32 ووٹ حاصل کیے، جبکہ پیپلز پارٹی کے عامر عبدالغفار لون کو 13 ووٹ ملے۔ اس انتخاب میں بھی پیپلز پارٹی کا ایک ووٹ مسترد ہوا۔ بعد ازاں اسپیکر طارق فاروق نے احمد رضا قادری سے ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کا حلف لیا۔
رپورٹ کے مطابق دونوں جانب کے ارکان نے نو منتخب عہدیداروں کو مبارک باد دی اور توقع ظاہر کی کہ اسمبلی کی کارروائی غیر جانب داری سے چلائی جائے گی اور حکومت کے ساتھ اپوزیشن کو بھی اپنے حلقوں اور عوامی مسائل اٹھانے کا مناسب موقع ملے گا۔
طارق فاروق نے اجلاس کے اختتام پر ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر کا منصب غیر جانب داری کا تقاضا کرتا ہے۔ ان کے مطابق جمہوری نظام میں اپوزیشن کا کردار اہم ہے اور وہ جماعتی وابستگی سے قطع نظر تمام ارکان کو برابر اہمیت دیں گے۔ انہوں نے ایوان کے وقار اور احترام کو برقرار رکھنے کا بھی عزم ظاہر کیا۔
آزاد کشمیر میں صدر کا منصب جنوری سے خالی ہونے کے باعث رپورٹ کے مطابق طارق فاروق نئے صدر کے انتخاب تک قائم مقام صدر کی ذمہ داری بھی ادا کریں گے۔ یہ انتظام سابق اسپیکر کے دور میں بھی جاری تھا۔
اسی دوران قائد ایوان کے انتخاب کا شیڈول بھی جاری کردیا گیا۔ شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع کرانے اور جانچ پڑتال کے بعد جمعرات کو رائے شماری ہوگی، جبکہ منتخب قائد ایوان اسی روز قائم مقام صدر کے سامنے حلف اٹھائے گا۔
موجودہ پیش رفت اسمبلی کے داخلی انتخابی عمل اور آئینی عہدوں کی تکمیل سے متعلق ہے۔ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے نتائج طے ہو چکے ہیں، تاہم قائد ایوان کا انتخاب الگ مرحلہ ہے اور اس کا نتیجہ جمعرات کی رائے شماری سے پہلے حتمی تصور نہیں کیا جا سکتا۔




