لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی مقدمے میں فریقین کی عدالت سے باہر رضاکارانہ مصالحت، ضمانت کی درخواست پر فیصلہ کرتے وقت زیر غور آسکتی ہے، خواہ متعلقہ جرم قانوناً ناقابل راضی نامہ ہو۔ دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے ساتھ ہی واضح کیا کہ ایسی مصالحت جرم کی قانونی حیثیت یا نوعیت تبدیل نہیں کرتی اور نہ ہی مقدمہ خودبخود ختم ہوجاتا ہے۔

جسٹس محمد عثمان غنی راشد چیمہ نے محمد اشفاق عرف اشتیاق کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے پہلے سے دی گئی عبوری ضمانت کی توثیق کردی۔ عدالت نے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے اور اسی رقم کی ایک ضمانت جمع کرانے پر رہائی کا حکم دیا۔ پانچ صفحات کے تحریری فیصلے میں متعلقہ مقدمے کے حقائق اور فریقین کے موقف کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق مقدمہ 2 مارچ 2026 کو بہاول نگر ضلع کے سٹی ہارون آباد تھانے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 406، امانت میں خیانت، کے تحت درج ہوا تھا۔ استغاثہ کا الزام تھا کہ ملزم اور اس کے ساتھی نے شکایت کنندہ کی گاڑی عارضی استعمال کے لیے حاصل کی، مگر واپس کرنے کے بجائے مبینہ طور پر کسی دوسرے شخص کو فروخت کردی۔ یہ استغاثہ کا الزام ہے؛ ضمانت کی توثیق کسی حتمی بریت یا الزام کے غلط ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں۔

سماعت میں شکایت کنندہ اپنے وکیل کے ساتھ پیش ہوا اور عدالت کو بتایا کہ فریقین کے درمیان مصالحت ہوگئی ہے اور اسے ضمانت کی توثیق پر اعتراض نہیں۔ سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ دفعہ 406 ناقابل راضی نامہ ہے، اس لیے شکایت کنندہ کا بیان جرم کو قانونی طور پر ختم نہیں کرسکتا۔ عدالت نے جرم کی ناقابل راضی نامہ حیثیت سے اتفاق کیا، مگر کہا کہ رضاکارانہ معافی، مقدمہ آگے نہ بڑھانے کی خواہش اور ضمانت پر عدم اعتراض کو ضمانت کے مرحلے پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

فیصلے کا دائرہ ضمانت تک محدود ہے۔ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ ہر مصالحت کے بعد ضمانت لازماً ملے گی، نہ یہ کہ ناقابل راضی نامہ جرم قابل راضی نامہ بن جاتا ہے۔ ہر درخواست میں مقدمے کے حقائق، شکایت کنندہ کی رضامندی کی آزادی، تفتیشی مواد اور قانونی معیار الگ جانچے جائیں گے۔

اس فیصلے میں مصالحت کو جرم کے خاتمے کے بجائے ضمانت کے مرحلے کا ایک متعلقہ عامل قرار دیا گیا ہے۔ مقدمے کے حتمی نتیجے، شہادت اور ذمہ داری کا تعین متعلقہ عدالتی کارروائی میں ہوگا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک