وزارت توانائی نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ ملک کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں مجموعی طور پر 21 لاکھ 25 ہزار 296 اسمارٹ میٹرز نصب کیے جاچکے ہیں۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار پریذائڈنگ افسر شہادت اعوان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وزارت کے تحریری جواب کے ذریعے پیش کیے گئے۔
جواب کے مطابق لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی، لیسکو، نے 11 لاکھ 53 ہزار 556 میٹر نصب کیے ہیں، جو رپورٹ کردہ مجموعی تعداد کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی، گیپکو، میں 3 لاکھ 48 ہزار 135 اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی، میپکو، میں 2 لاکھ 29 ہزار 719 اسمارٹ میٹرز لگائے گئے ہیں۔
اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، آئیسکو، کی تعداد ایک لاکھ 19 ہزار 372 بتائی گئی، جبکہ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، فیسکو، نے ایک لاکھ 11 ہزار 948 میٹر نصب کیے۔ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی، پیسکو، میں 60 ہزار 685 اور کے الیکٹرک کے دائرے میں 50 ہزار 599 اسمارٹ میٹرز کی تنصیب رپورٹ کی گئی۔
نسبتاً کم تعداد والی کمپنیوں میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، حیسکو، کے 19 ہزار 620، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی، سیپکو، کے 13 ہزار 432 اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی، کیسکو، کے 9 ہزار 194 میٹر شامل ہیں۔ ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی، ہازیکو، کی تعداد 7 ہزار 659 اور قبائلی علاقوں کی ٹیسکو کی تعداد ایک ہزار 377 بتائی گئی۔
یہ اعداد وزارت توانائی کا سینیٹ میں جمع کرایا گیا تحریری جواب ہیں۔ دستیاب رپورٹ میں ہر میٹر کے فعال ہونے، ڈیٹا مواصلات کی کیفیت، صارفین کو بلنگ میں حاصل ہونے والے نتائج یا منصوبے کی مجموعی لاگت کی الگ تفصیل موجود نہیں۔ اس لیے نصب شدہ تعداد کو خودکار طور پر مکمل فعال کوریج یا تمام علاقوں میں یکساں پیش رفت نہیں سمجھا جاسکتا۔
اسمارٹ میٹرنگ کا بنیادی عملی مقصد کھپت کی زیادہ درست پیمائش، دور سے ریڈنگ اور نظام کی نگرانی بہتر بنانا ہوسکتا ہے، مگر صارف کے تجربے اور نقصانات میں کمی کے نتائج کے لیے مزید کارکردگی کے اعداد درکار ہوں گے۔ فی الحال سینیٹ میں پیش کردہ تقسیم سے واضح ہے کہ تنصیب کا بڑا حصہ چند بڑی ڈسکوز میں مرتکز ہے اور کمپنیوں کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




