آزاد جموں و کشمیر میں براڈبینڈ اور ڈی ایس ایل انٹرنیٹ سروس 99 روزہ طویل تعطل کے بعد بحال کر دی گئی ہے، جبکہ 3G اور 4G موبائل ڈیٹا سروس فی الحال بند رہے گی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اتوار 13 ستمبر کی رات 12 بجے سے خطے میں فکسڈ لائن انٹرنیٹ بحال ہوا، جس سے طلبہ، کاروباری افراد، صحافیوں، فری لانسرز اور گھریلو صارفین کو کئی ماہ کی مشکلات کے بعد جزوی ریلیف ملا ہے۔
رپورٹ کے مطابق موبائل ڈیٹا کی عدم دستیابی کے باعث وہ صارفین جو فکسڈ لائن یا ڈی ایس ایل تک رسائی نہیں رکھتے، اب بھی مکمل رابطے سے محروم ہیں۔ حکومت نے 3G اور 4G سروس کی بحالی کے لیے کوئی قطعی تاریخ نہیں دی، صرف یہ بتایا گیا ہے کہ یہ سہولت چند روز بعد بحال ہو سکتی ہے۔ اس لیے تازہ پیش رفت کو مکمل انٹرنیٹ بحالی کے بجائے براڈبینڈ اور ڈی ایس ایل کی واپسی کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے۔
انٹرنیٹ سروسز ابتدا میں 5 جون کو راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اعلان کردہ لانگ مارچ اور دھرنے کے بعد معطل کی گئی تھیں۔ تقریباً 48 روز بعد بعض علاقوں میں جزوی بحالی ہوئی، تاہم مظفرآباد میں جولائی کے آخر میں ہڑتال اور جھڑپوں کے بعد دوبارہ بندش سامنے آئی۔ 31 اگست کو آزاد کشمیر حکومت نے کئی اضلاع میں جزوی بحالی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا، لیکن پورے خطے میں مسلسل اور یکساں رابطہ دستیاب نہیں تھا۔
آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد بہار نے حالیہ سماعت کے دوران دو درخواستوں کو یکجا کرتے ہوئے حکومت کو دس روز کے اندر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم ایسے علاقوں کے لیے استثنا رکھا گیا تھا جہاں امن و امان کی صورتحال بحالی کی اجازت نہ دے۔ درخواستیں آزاد کشمیر بار ایسوسی ایشن اور ایک مقامی شہری کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔
طویل بندش نے تعلیمی سرگرمیوں، آن لائن کاروبار، ڈیجیٹل ادائیگیوں، صحافتی کام، سرکاری امور اور فری لانسنگ کو متاثر کیا۔ خاص طور پر کاروباری طبقے اور طلبہ نے مسلسل رابطے کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔ موجودہ پیش رفت سے فکسڈ لائن صارفین کو فوری فائدہ ملے گا، مگر موبائل ڈیٹا کی مکمل واپسی تک خطے کے ایک بڑے حصے کے لیے انٹرنیٹ رسائی محدود ہی رہے گی۔




