ہرنائی: بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں ایک کوئلہ کان کے اندر گیس دھماکے کے نتیجے میں چار کان کن جاں بحق جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوگئے۔ سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق دھماکے کے بعد کان میں پھنسے مزدوروں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن کیا گیا، جسے پاک فوج نے مکمل کیا۔ کارروائی کے دوران پانچ پھنسے ہوئے کان کنوں کو زندہ نکالا گیا۔

ریڈیو پاکستان نے 13 ستمبر کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ حادثے میں مجموعی طور پر چار کان کن جان سے گئے جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے۔ زخمی کان کنوں کو مزید طبی امداد کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔ سرکاری رپورٹ میں حادثے کی بنیادی وجہ گیس دھماکا بتائی گئی، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ گیس کس نوعیت کی تھی، دھماکے سے پہلے حفاظتی نگرانی کا کیا نظام موجود تھا یا کسی سرکاری ادارے نے باقاعدہ تکنیکی تحقیقات شروع کی ہیں یا نہیں۔ اس لیے حادثے کی ذمہ داری یا کسی ممکنہ غفلت کے بارے میں اس مرحلے پر حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

دھماکے کے بعد فوری توجہ کان میں موجود مزدوروں کی تلاش اور بحفاظت نکالنے پر مرکوز رہی۔ سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق پانچ افراد کو زندہ نکال لیا گیا اور ریسکیو آپریشن مکمل ہو چکا ہے۔ مقامی افراد نے بروقت امدادی کارروائی کو سراہا۔ حادثے میں جان سے جانے والے کان کنوں کی شناخت اور زخمیوں کی انفرادی طبی حالت سے متعلق تفصیلات ابتدائی سرکاری رپورٹ میں فراہم نہیں کی گئیں۔

بلوچستان میں کوئلہ کانوں کے حادثات ایک مسلسل تشویش کا موضوع رہے ہیں۔ زیرِ زمین کانوں میں میتھین اور دوسری آتش گیر گیسوں کا جمع ہونا، وینٹی لیشن کی ناکافی صورتحال، حفاظتی آلات کی کمی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی محدود سہولتیں مزدور تنظیموں اور ماہرین کی جانب سے بار بار اٹھائے جانے والے مسائل ہیں۔ ڈان کے مطابق گزشتہ ماہ مستونگ کے ڈیگاری علاقے میں بھی گیس دھماکے سے تین مزدور ہلاک ہوئے تھے، جبکہ جولائی کے اواخر میں کوئٹہ کے قریب ایک بڑے میتھین دھماکے میں کم از کم 32 کان کن جان سے گئے تھے۔

ہرنائی کے تازہ حادثے نے ایک بار پھر کان کنی کے شعبے میں حفاظتی معیارات، گیس مانیٹرنگ، وینٹی لیشن اور ریسکیو تیاریوں کی اہمیت نمایاں کر دی ہے۔ تاہم اس مخصوص واقعے کے بارے میں ذمہ داری کا تعین صرف باقاعدہ انکوائری، کان کی تکنیکی جانچ اور متعلقہ حکام کی رپورٹ کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔

حکام کی جانب سے اگر مزید تفصیلات، متاثرہ کان کے انتظامی ریکارڈ یا تحقیقات کے نتائج جاری کیے جاتے ہیں تو اس سے حادثے کی وجوہات اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے درکار اقدامات زیادہ واضح ہو سکیں گے۔ فی الحال تصدیق شدہ معلومات کے مطابق چار اموات اور پانچ زخمیوں کی اطلاع ہے، پانچ پھنسے کان کنوں کو زندہ نکالا گیا اور امدادی آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔